اب نہ حسرت نہ پاس ہے دل میں
اب نہ حسرت نہ پاس ہے دل میں
کوئی بھی اس مکان میں نہ رہا
کیا شکایت جو کٹ گئے گاہک
مال ہی جب دکان میں نہ رہا
مر کے رہنا پڑا اب اس میں آہ
جیتے جی جس مکان میں نہ رہا
نادرؔ افسوس قدر دان سخن
ایک ہندوستان میں نہ رہا
اب نہ حسرت نہ پاس ہے دل میں
کوئی بھی اس مکان میں نہ رہا
کیا شکایت جو کٹ گئے گاہک
مال ہی جب دکان میں نہ رہا
مر کے رہنا پڑا اب اس میں آہ
جیتے جی جس مکان میں نہ رہا
نادرؔ افسوس قدر دان سخن
ایک ہندوستان میں نہ رہا
ماخذ: ویکی ماخذ · نادر کاکوری