غزل

ردیف الف

  1. اچھا ہوا یہ وقت تو آنا ضرور تھا
  2. میان سے تیرا اگر خنجر نکل کر رہ گیا
  3. جور زمیں نہ تھا ستم آسماں نہ تھا
  4. میں شمع بزم عالم امکاں کیا گیا
  5. الفت عارض لیلیٰ میں پریشاں نکلا
  6. ہو چکا جو کہ مقدر میں تھا درماں ہونا
  7. کہنا نہ مانا کوچۂ قاتل میں رہ گیا
  8. نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگا

ردیف ت

  1. ختم ہوگا اب سفر پیش نظر ہے روئے دوست

ردیف ر

  1. دنیائے غم کو زیر و زبر کر سکے تو کر

ردیف گ

  1. لیجئے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگ

ردیف ن

  1. آپ دل کھول کر بیداد پہ بیداد کریں
  2. گھر کے گھبراتے نہ تھے ہجر کے آزاروں میں

ردیف و

  1. سر و گردن کی جدائی دیکھو

ردیف ی

  1. آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماری
  2. شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہی
  3. نوح کا طوفان اک آنسو سے برپا کیجئے
  4. داد ملتی نظر اہل نظر سے پہلے
  5. کسی حسرت زدہ نے خود کشی منظور کی دل سے