غزل
ردیف الف
- اچھا ہوا یہ وقت تو آنا ضرور تھا
- میان سے تیرا اگر خنجر نکل کر رہ گیا
- جور زمیں نہ تھا ستم آسماں نہ تھا
- میں شمع بزم عالم امکاں کیا گیا
- الفت عارض لیلیٰ میں پریشاں نکلا
- ہو چکا جو کہ مقدر میں تھا درماں ہونا
- کہنا نہ مانا کوچۂ قاتل میں رہ گیا
- نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگا