غزل

ردیف الف

  1. واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیا
  2. رنج اور رنج بھی تنہائی کا
  3. دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا

ردیف ت

  1. اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
  2. گو جوانی میں تھی کج رائی بہت

ردیف ج

  1. بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج

ردیف ر

  1. ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر

ردیف ڑ

  1. گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ

ردیف ز

  1. جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز

ردیف ض

  1. عشق کو ترک جنوں سے کیا غرض

ردیف م

  1. خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہم
  2. آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم

ردیف ن

  1. میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں
  2. کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں
  3. ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
  4. غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں
  5. اب وہ اگلا سا التفات نہیں

ردیف ھ

  1. حقیقت محرم اسرار سے پوچھ

ردیف ی

  1. دھوم تھی اپنی پارسائی کی
  2. بری اور بھلی سب گزر جائے گی
  3. وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے
  4. کر کے بیمار دی دوا تو نے
  5. کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے
  6. کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہے
  7. جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے
  8. حشر تک یاں دل شکیبا چاہئے
  9. حق وفا کے جو ہم جتانے لگے
  10. دل کو درد آشنا کیا تو نے