غزل
ردیف الف
- ہر غم میں کریم ہے ہمارا
- بے قراروں کو کب قرار آیا
- اثر ایسا ہے تپ غم میں دوا کا الٹا
- نظر کسی کو وہ موئے کمر نہیں آتا
- نہ جنوں جائے گا کبھی میرا
- سن کے فرقت چپ ہوا ایسا کہ مردا ہو گیا
- درویش قید غم میں دل زار ہو گیا
- کھلے گا ناخن شمشیر سے عقدہ مرے دل کا
- کون آئے گا جو تو بے سر و ساماں ہوگا
- وفور ضعف سے دل یار پر نہیں آتا
- مجھ کو مسند پہ قلمداں بخشا
- آنسو تھمے جو رخ پہ وہ گیسو بکھر گیا