غزل

ردیف الف

  1. ہر غم میں کریم ہے ہمارا
  2. بے قراروں کو کب قرار آیا
  3. اثر ایسا ہے تپ غم میں دوا کا الٹا
  4. نظر کسی کو وہ موئے کمر نہیں آتا
  5. نہ جنوں جائے گا کبھی میرا
  6. سن کے فرقت چپ ہوا ایسا کہ مردا ہو گیا
  7. درویش قید غم میں دل زار ہو گیا
  8. کھلے گا ناخن شمشیر سے عقدہ مرے دل کا
  9. کون آئے گا جو تو بے سر و ساماں ہوگا
  10. وفور ضعف سے دل یار پر نہیں آتا
  11. مجھ کو مسند پہ قلمداں بخشا
  12. آنسو تھمے جو رخ پہ وہ گیسو بکھر گیا

ردیف ت

  1. تھا نجم بخت تیرہ مقابل تمام رات

ردیف ج

  1. ہم سے کرتا ہے عبث گفتار کج

ردیف د

  1. خوں بہانے کا بہانہ ہے بھلا میرے بعد

ردیف س

  1. ہے مرا تار نفس تار قفس

ردیف ظ

  1. موسم گل میں نہیں عزت و شان واعظ

ردیف ن

  1. میں دریائے قناعت آشنا ہوں

ردیف و

  1. موت اپنی جان اے دل گردش افلاک کو

ردیف ی

  1. شہرت ہے میری سخن وری کی
  2. گر ہو نہ خفا تو کہہ دوں جی کی
  3. اپنی پرسش جو ہو ارباب وفا سے پہلے
  4. دل آئنہ ہے جوہر عکس رو ہے
  5. نہ کچھ تکرار تم کو ہے نہ کچھ شکوہ ہمارا ہے
  6. غم میں عہد شباب جاتا ہے
  7. شب ہجراں میں دم نکلتا ہے
  8. نہ گل نہ سرو میان بہار ہوتا ہے
  9. تن سے جاں کا قدم نکلتا ہے
  10. رخ سے برقع جو الٹ دے وہ تو آفت ہو جائے