غزل
ردیف الف
- غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا
- کل نشے میں تھا وہ بت مسجد میں گر آ جاتا
- اس کے جو جو کہ فوائد ہیں خود دیکھتے جاؤ
- نہ وہ نالوں کی شورش ہے نہ غل ہے آہ و زاری کا
ردیف ب
ردیف ڑ
ردیف ز
ردیف م
ردیف ن
- یہ جو چپکے سے آئے بیٹھے ہیں
- بس کہ اک جنس رائیگاں ہوں میں
- خانماں سوز ماسوا ہوں میں
- گریباں چاک ہیں گل بوستاں میں