غزل

ردیف الف

  1. غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا
  2. کل نشے میں تھا وہ بت مسجد میں گر آ جاتا
  3. اس کے جو جو کہ فوائد ہیں خود دیکھتے جاؤ
  4. نہ وہ نالوں کی شورش ہے نہ غل ہے آہ و زاری کا

ردیف ب

  1. اس کے نبھنے کے کچھ نہیں اسباب
  2. مانگیں نہ ہم بہشت نہ ہو واں اگر شراب

ردیف ڑ

  1. ایک سے ربط ایک سے ہے بگاڑ

ردیف ز

  1. حرف تم اپنی نزاکت پہ نہ لانا ہرگز

ردیف م

  1. اثر آہ کا گر دکھائیں گے ہم
  2. میرے دل میں تو ہر زماں ہو تم

ردیف ن

  1. یہ جو چپکے سے آئے بیٹھے ہیں
  2. بس کہ اک جنس رائیگاں ہوں میں
  3. خانماں سوز ماسوا ہوں میں
  4. گریباں چاک ہیں گل بوستاں میں

ردیف ی

  1. وہ کہاں جلوۂ جاں بخش بتان دہلی
  2. ہم اپنا جو قصہ سنانے لگے
  3. نیچی نظروں کے وار آنے لگے
  4. نہ کیوں تیر نظر گزرے جگر سے
  5. سر کو تن سے مرے جدا کیجے