غزل
ردیف الف
- بے مروت بے وفا نامہرباں نا آشنا
- دل سے پوچھا تو کہاں ہے تو کہا تجھ کو کیا
- عاشق نہ اگر وفا کرے گا
- جلوہ دکھا کے گزرا وہ نور دیدگاں کا
- مے و ساقی ہیں سب یکجا اَہاہاہا اَہاہاہا
- اس ستم گر سے جو ملا ہوگا
- جو کچھ کہ تھا وظائف و اوراد رہ گیا
- مست ہم کو شراب میں رہنا
- کل وہ جو پئے شکار نکلا
- تنہا نہ دل ہی لشکر غم دیکھ ٹل گیا
- گر اسی طرح سج بنائیے گا
- جانوں میں نہ جبکہ نام اس کا
- دیتا نہیں دل لے کے وہ مغرور کسی کا
- مے کدے میں جو ترے حسن کا مذکور ہوا
- ہم پہ سو ظلم و ستم کیجئے گا
- غم جگر شکن و درد جاں ستاں دیکھا
- کہاں ہم رہے پھر کہاں دل رہے گا
- گر کہیں اس کو جلوہ گر دیکھا
- جو وہ بہار عذار خوبی چمن میں آتا خرام کرتا
ردیف ب
ردیف ت
- اے شمع دل افروز شب تار محبت
- دل سلامت اگر اپنا ہے تو دل دار بہت
- بیدارؔ کروں کس سے میں اظہار محبت
- مے پئے مست ہے سرشار کہاں جاتا ہے
ردیف چ
ردیف د
ردیف ر
- گیا ہے جب سے دکھا جلوہ وہ پری رخسار
- وجد اہل کمال ہے کچھ اور
- تجھ بن سرشک خوں کا ہے آنکھوں سے طغیاں اس قدر
- حیف ہے ایسی زندگانی پر
ردیف ش
ردیف ظ
ردیف گ
ردیف م
- آ تیری گلی میں مر گئے ہم
- محو رخ یار ہو گئے ہم
- یہ بھی کوئی وضع آنے کی ہے جو آتے ہو تم
- شبنم تو باغ میں ہے نہ یوں چشم تر کہ ہم
- نے فقط تجھ حسن کی ہے ہند کی خوباں میں دھوم
ردیف ن
- انجمن ساز عیش تو ہے یہاں
- خرقہ رہن شراب کرتا ہوں
- بھرے موتی ہیں گویا تجھ دہن میں
- فقط قضیہ یہی ہے فن طبعی اور الٰہی میں
- آہ اے یار کیا کروں تجھ بن
- یا رب جو خار غم ہیں جلا دے انہوں کے تئیں
- تیرے کوچہ سے نہ یہ شیفتگاں جاتے ہیں
- پاوے کس طرح کوئی کس کو ہے مقدور ہمیں
- ہم تری خاطر نازک سے خطر کرتے ہیں
- بہار گلشن ایام ہوں میں
- تیرے حیرت زدگاں اور کہاں جاتے ہیں
- خاک عاشق ہے جو ہووے ہے نثار دامن
ردیف و
- نہیں آرام ایک جا دل کو
- کوئی کس طرح تم سے سر بر ہو
- آنے دو اپنے پاس مجھ کو
- ایک دن وصل سے اپنے مجھے تم شاد کرو
- دل کو میں آج ناصحاں اس کو دیا جو ہو سو ہو
- تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہو
- حصول فقر گر چاہے تو چھوڑ اسباب دنیا کو
- یوں مجھ پہ جفا ہزار کیجو
- ایک دن مدتوں میں آئے ہو
ردیف ہ
ردیف ھ
ردیف ی
- لب رنگیں ہیں ترے رشک عقیق یمنی
- دیکھ اس پری سے کیجئے کیا اب تو جا لگی
- دور سے بات خوش نہیں آتی
- آہ ملتے ہی پھر جدائی کی
- صفا الماس و گوہر سے فزوں ہے تیرے دنداں کی
- زاہد اس راہ نہ آ مست ہیں مے خوار کئی
- جس دن تم آ کے ہم سے ہم آغوش ہو گئے
- ہم ہی تنہا نہ تری چشم کے بیمار ہوئے
- حسن سرشار ترا داروۓ بے ہوشی ہے
- مقدور کیا مجھے کہ کہوں واں کہ یاں رہے
- مکتب میں تجھے دیکھ کسے ہوش سبق ہے
- اٹھ کے لوگوں سے کنارے آئیے
- اب تک مرے احوال سے واں بے خبری ہے
- جو تو ہو پاس تو دیکھوں بہار آنکھوں سے
- مت پوچھ تو جانے دے احوال کو فرقت کے
- گر ایک رات گزر یاں وہ رشک ماہ کرے
- جس وقت تو بے نقاب آوے
- نشہ میں جی چاہتا ہے بوسہ بازی کیجئے
- کچھ نہ ایدھر ہے نے ادھر تو ہے
- قاصد اس کا پیام کچھ بھی ہے
- چمن لالہ یہ الفت تری دکھلاتی ہے
- کون یاں بازار خوبی میں ترا ہم سنگ ہے
- جب تک کہ دل نہ لاگا ان بے مروتوں سے
- میر مجلس رنداں آج وہ شرابی ہے
- گر بڑے مرد ہو تو غیر کو یاں جا دیجے
- حسن ہر نونہال رکھتا ہے
- تجھ بن آرام جاں کہاں ہے مجھے
- تیرے مژگاں ہی نہ پہلو مارتے ہیں تیرے
- اوروں کی بات یاں بہت کم ہے
- مہر خوباں خانہ افروز دل افسردہ ہے