غزل

ردیف الف

  1. جو تصور سے ماورا نہ ہوا
  2. اب دل کو ہم نے بندۂ جاناں بنا دیا
  3. اسیروں میں بھی ہو جائیں جو کچھ آشفتہ سر پیدا

ردیف ن

  1. اف کیا مزا ملا ستم روزگار میں
  2. زنداں نصیب ہوں مرے قابو میں سر نہیں

ردیف و

  1. نہ رہا ذوق رنگ و بو مجھ کو
  2. کہاں طاقت یہ روسی کو کہاں ہمت یہ جرمن کو

ردیف ی

  1. یہ عطر بیزیاں نہیں نسیم نوبہار کی
  2. زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سے
  3. انجام وفا بھی دیکھ لیا اب کس لیے سر خم ہوتا ہے
  4. پیغام رہائی دیا ہر چند قضا نے
  5. وہ سامنے جب آ جاتے ہیں سکتے کا سا عالم ہوتا ہے
  6. حسن فطرت کی آبرو مجھ سے
  7. صدا فریاد کی آئے کہیں سے