غزل
ردیف الف
- اپنے نالے میں گر اثر ہوتا
- جو ہم سے تو ملا کرے گا
- تو ہم سے جو ہم شراب ہوگا
- اگر میں جانتا ہے عشق میں دھڑکا جدائی کا
- عشاق تیرے سب تھے پر زار تھا سو میں تھا
- جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا
- ترا ہم نے جس کو طلب گار دیکھا
- جتنا کوئی تجھ سے یار ہوگا
- کعبے ہی کا اب قصد یہ گمراہ کرے گا
- یہ تیرا عشق کب کا آشنا تھا
ردیف م
ردیف ن
- آہ میں بے قرار کس کا ہوں
- ہمیں کون پوچھے ہے صاحبو نہ سوال میں نہ جواب میں
- حسن کی گر زکوٰۃ پاؤں میں
- غمزۂ چشم شرمسار کہاں