غزل

ردیف الف

  1. دل خدا جانے کس کے پاس رہا
  2. دور سے باغ جہاں دکھلا کے دیوانہ کیا

ردیف ٹ

  1. خواہ سچ جان مری بات کو تو خواہ کہ جھوٹ

ردیف ر

  1. ہے دھیان جو اپنا کہیں اے ماہ جبیں اور
  2. نہ رہا گل نہ خار ہی آخر
  3. اے گرد باد طرف چمن ٹک گزار کر
  4. وصل بھی ہوگا حسنؔ تو ٹک تو استقلال کر

ردیف ز

  1. ہم قتل ہو گئے نہیں تجھ کو خبر ہنوز

ردیف ص

  1. ہم سے کر تو کہ یا نہ کر اخلاص

ردیف ض

  1. نہ باغ سے غرض ہے نہ گل زار سے غرض

ردیف ف

  1. سب کو ہے منظور اس رخسار گل گوں کی طرف

ردیف ک

  1. دل بچھڑ کر جو چلا اس بت مغرور تلک
  2. جب تلک تیر ترا آوے ہے نخچیر تلک
  3. ٹک دیکھ لیں چمن کو چلو لالہ زار تک

ردیف گ

  1. رکھتا ہے صلح سب سے دل اس کا پہ مجھ سے جنگ

ردیف م

  1. بس دل کا غبار دھو چکے ہم
  2. آن کر غم کدۂ دہر میں جو بیٹھے ہم
  3. فائدہ آنے سے ایسے آ کے پچھتائیں ہیں ہم
  4. سوز دل کا ذکر اپنے منہ پہ جب لاتے ہیں ہم
  5. دل غم سے ترے لگا گئے ہم
  6. جگر سوختہ ہیں اور دل بریاں ہیں ہم
  7. کیا کہیں پوچھ مت کہیں ہیں ہم
  8. شمع ساں شب کے میہماں ہیں ہم

ردیف ن

  1. ہم نہ نکہت ہیں نہ گل ہیں جو مہکتے جاویں
  2. چل دل اس کی گلی میں رو آویں
  3. دل مرا آج میرے پاس نہیں
  4. بس گیا جب سے یار آنکھوں میں
  5. اس دل میں اپنی جان کبھی ہے کبھی نہیں
  6. دل دار دل اس طرح بہم آئے نظر میں
  7. کسی موسم کی وہ باتیں جو تیری یاد کرتا ہوں
  8. اس کی جب بزم سے ہم ہو کے بتنگ آتے ہیں
  9. کہیں جو دل نہ لگاویں تو پھر اداس پھریں
  10. یا صبر ہو ہمیں کو اس طرف جو نہ نکلیں
  11. گل ہے زخمی بہار کے ہاتھوں
  12. نہ برگ ہوں میں گل کا نہ لالے کا شجر ہوں
  13. نہ ہم دعا سے اب نہ وفا سے طلب کریں
  14. دل کو اس شوخ کے کوچہ میں دھرے آتے ہیں
  15. کون کرتا ہے سر زلف کی باتیں دل میں
  16. نظر کرو وحدت و کثرت بہم شامل ہیں شیشہ میں

ردیف و

  1. غیر کو تم نہ آنکھ بھر دیکھو
  2. وفادار ہو یا جفا کار تم ہو
  3. مجھ کو عاشق کہہ کے اس کے روبرو مت کیجیو
  4. مزا بے ہوشیٔ الفت کا ہوشیاروں سے مت پوچھو

ردیف ہ

  1. کہتا نہ تھا میں اے دل تو اس سے جی لگا نہ
  2. دید کی سد راہ ہے یہ مژہ

ردیف ی

  1. مل گئے اپنے یار سے اب کی
  2. دیکھ دروازے سے مجھ کو وہ پری رو ہٹ گئی
  3. چشم تر رات مجھ کو یاد آئی
  4. آہوں سے مرے گھر میں ہوا گرم رہے گی
  5. اس ڈر سے میں نے زلف کی اس کی نہ بات کی
  6. محبت میں تری جب مجھ کو عالم نے ملامت کی
  7. آنکھوں میں ہیں حقیر جس تس کے
  8. دل بر سے ہم اپنے جب ملیں گے
  9. منہ کہاں یہ کہ کہوں جائیے اور سو رہئے
  10. آج دل بیقرار ہے کیا ہے
  11. جان میں جان تبھی قیس کے بس آتی ہے
  12. مجنوں کو اپنی لیلیٰ کا محمل عزیز ہے
  13. صنم پاس ہے اور شب ماہ ہے
  14. یار کا دھیان ہم نہ چھوڑیں گے
  15. جان و دل ہیں اداس سے میرے
  16. دامن کو اس کے کھینچیں اغیار سب طرف سے
  17. آپ کو اس نے اب تراشا ہے
  18. آنکھوں سے خون اپنے یہ کہتا نہیں نہ جائے
  19. ہم سے تو کسی کام کی بنیاد نہ ہووے
  20. دل کی زمیں سے کون سی بہتر زمین ہے
  21. کل جو تم ایدھر سے گزرے ہم نظر کر رہ گئے
  22. نوجوانی کی دید کر لیجے
  23. نے فقہ نہ منطق نے حکمت کا رسالہ ہے
  24. شب کو تم ہم سے خفا ہو کر سحر کو اٹھ گئے
  25. نغمہ و عشق سے ہیں سبحہ و زنار ملے
  26. وہ دلبری کا اس کی جو کچھ حال ہے سو ہے
  27. اتنے آنسو تو نہ تھے دیدۂ تر کے آگے
  28. کوئی نہیں کہ یار کی لاوے خبر مجھے
  29. یوں غیر کچھ کہیں تو بلا کو بری لگے
  30. وہ نہیں ہم جو ڈر ہی جاویں گے
  31. وصل کا عیش کہاں پر غم ہجراں تو ہے
  32. منہ اپنا خشک ہے اور چشم تر ہے
  33. اس کے کوچے سے صبا گر ادھر آ جاتی ہے
  34. جس شخص کی ہو زیست فقط نام سے تیرے
  35. عرق کو دیکھ منہ پر تیرے پیارے
  36. تیر پر تیر لگے تو بھی نہ پیکاں نکلے
  37. سب نقش اس فلک کے نگینے پہ آ رہے
  38. میں کہا تھا کبھی سے یہ کچھ ہے
  39. ہم نہ تنہا اس گلی سے جاں کو کھو کر اٹھ گئے
  40. کیوں کر بھلا لگے نہ وہ دل دار دور سے
  41. کیوں رنگ سرخ تیرا اب زرد ہو گیا ہے
  42. جلد حسن و جمال جاتا ہے
  43. سو کی اک بات میں کہی تو ہے
  44. تیری مدد سے تیرا ادراک ہو سکے ہے
  45. یاں سے پیغام جو لے کر گئے معقول گئے
  46. نگہ سے چشم سے ناز و ادا سے
  47. بس کہ چوں بدر زمانہ یہ گھٹاتا ہے مجھے
  48. نہ ملا وہ نفاق کے مارے
  49. دریا میں ڈوب جاوے کہ یا چاہ میں پڑے