غزل
ردیف الف
ردیف ٹ
ردیف ر
- ہے دھیان جو اپنا کہیں اے ماہ جبیں اور
- نہ رہا گل نہ خار ہی آخر
- اے گرد باد طرف چمن ٹک گزار کر
- وصل بھی ہوگا حسنؔ تو ٹک تو استقلال کر
ردیف ز
ردیف ص
ردیف ض
ردیف ف
ردیف ک
ردیف گ
ردیف م
- بس دل کا غبار دھو چکے ہم
- آن کر غم کدۂ دہر میں جو بیٹھے ہم
- فائدہ آنے سے ایسے آ کے پچھتائیں ہیں ہم
- سوز دل کا ذکر اپنے منہ پہ جب لاتے ہیں ہم
- دل غم سے ترے لگا گئے ہم
- جگر سوختہ ہیں اور دل بریاں ہیں ہم
- کیا کہیں پوچھ مت کہیں ہیں ہم
- شمع ساں شب کے میہماں ہیں ہم
ردیف ن
- ہم نہ نکہت ہیں نہ گل ہیں جو مہکتے جاویں
- چل دل اس کی گلی میں رو آویں
- دل مرا آج میرے پاس نہیں
- بس گیا جب سے یار آنکھوں میں
- اس دل میں اپنی جان کبھی ہے کبھی نہیں
- دل دار دل اس طرح بہم آئے نظر میں
- کسی موسم کی وہ باتیں جو تیری یاد کرتا ہوں
- اس کی جب بزم سے ہم ہو کے بتنگ آتے ہیں
- کہیں جو دل نہ لگاویں تو پھر اداس پھریں
- یا صبر ہو ہمیں کو اس طرف جو نہ نکلیں
- گل ہے زخمی بہار کے ہاتھوں
- نہ برگ ہوں میں گل کا نہ لالے کا شجر ہوں
- نہ ہم دعا سے اب نہ وفا سے طلب کریں
- دل کو اس شوخ کے کوچہ میں دھرے آتے ہیں
- کون کرتا ہے سر زلف کی باتیں دل میں
- نظر کرو وحدت و کثرت بہم شامل ہیں شیشہ میں
ردیف و
- غیر کو تم نہ آنکھ بھر دیکھو
- وفادار ہو یا جفا کار تم ہو
- مجھ کو عاشق کہہ کے اس کے روبرو مت کیجیو
- مزا بے ہوشیٔ الفت کا ہوشیاروں سے مت پوچھو
ردیف ہ
ردیف ی
- مل گئے اپنے یار سے اب کی
- دیکھ دروازے سے مجھ کو وہ پری رو ہٹ گئی
- چشم تر رات مجھ کو یاد آئی
- آہوں سے مرے گھر میں ہوا گرم رہے گی
- اس ڈر سے میں نے زلف کی اس کی نہ بات کی
- محبت میں تری جب مجھ کو عالم نے ملامت کی
- آنکھوں میں ہیں حقیر جس تس کے
- دل بر سے ہم اپنے جب ملیں گے
- منہ کہاں یہ کہ کہوں جائیے اور سو رہئے
- آج دل بیقرار ہے کیا ہے
- جان میں جان تبھی قیس کے بس آتی ہے
- مجنوں کو اپنی لیلیٰ کا محمل عزیز ہے
- صنم پاس ہے اور شب ماہ ہے
- یار کا دھیان ہم نہ چھوڑیں گے
- جان و دل ہیں اداس سے میرے
- دامن کو اس کے کھینچیں اغیار سب طرف سے
- آپ کو اس نے اب تراشا ہے
- آنکھوں سے خون اپنے یہ کہتا نہیں نہ جائے
- ہم سے تو کسی کام کی بنیاد نہ ہووے
- دل کی زمیں سے کون سی بہتر زمین ہے
- کل جو تم ایدھر سے گزرے ہم نظر کر رہ گئے
- نوجوانی کی دید کر لیجے
- نے فقہ نہ منطق نے حکمت کا رسالہ ہے
- شب کو تم ہم سے خفا ہو کر سحر کو اٹھ گئے
- نغمہ و عشق سے ہیں سبحہ و زنار ملے
- وہ دلبری کا اس کی جو کچھ حال ہے سو ہے
- اتنے آنسو تو نہ تھے دیدۂ تر کے آگے
- کوئی نہیں کہ یار کی لاوے خبر مجھے
- یوں غیر کچھ کہیں تو بلا کو بری لگے
- وہ نہیں ہم جو ڈر ہی جاویں گے
- وصل کا عیش کہاں پر غم ہجراں تو ہے
- منہ اپنا خشک ہے اور چشم تر ہے
- اس کے کوچے سے صبا گر ادھر آ جاتی ہے
- جس شخص کی ہو زیست فقط نام سے تیرے
- عرق کو دیکھ منہ پر تیرے پیارے
- تیر پر تیر لگے تو بھی نہ پیکاں نکلے
- سب نقش اس فلک کے نگینے پہ آ رہے
- میں کہا تھا کبھی سے یہ کچھ ہے
- ہم نہ تنہا اس گلی سے جاں کو کھو کر اٹھ گئے
- کیوں کر بھلا لگے نہ وہ دل دار دور سے
- کیوں رنگ سرخ تیرا اب زرد ہو گیا ہے
- جلد حسن و جمال جاتا ہے
- سو کی اک بات میں کہی تو ہے
- تیری مدد سے تیرا ادراک ہو سکے ہے
- یاں سے پیغام جو لے کر گئے معقول گئے
- نگہ سے چشم سے ناز و ادا سے
- بس کہ چوں بدر زمانہ یہ گھٹاتا ہے مجھے
- نہ ملا وہ نفاق کے مارے
- دریا میں ڈوب جاوے کہ یا چاہ میں پڑے