مرثیہ
- یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
- نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
- کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے
- جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
- جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
- جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
- فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
- دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
- بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
- آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے
- آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے