غزل

ردیف ح

  1. شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح

ردیف ر

  1. سنبلِ تر ہے پریشاں زلفِ اکبر دیکھ کر

ردیف ن

  1. نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیں
  2. مرا راز دل آشکارا نہیں

ردیف و

  1. سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو

ردیف ی

  1. اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے
  2. وجد ہو بلبل تصویر کو جس کی بو سے
  3. کوئی انیسؔ کوئی آشنا نہیں رکھتے
  4. خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیے
  5. ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے