غزل
ردیف الف
- آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا
- اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
- ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
- غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
- محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا
- عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا
- اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا
- غصہ بیگانہ وار ہونا تھا
- دل قابل محبت جاناں نہیں رہا
- اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا
- دیدۂ حیراں نے تماشا کیا
- وعدۂ وصلت سے دل ہو شاد کیا
- یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا
- جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا
- شوخ کہتا ہے بے حیا جانا
- دیکھ لو شوق نا تمام مرا
- ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا
- راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا
- لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا
- گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا
- وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا
ردیف ب
ردیف ت
ردیف ج
ردیف ح
ردیف ڑ
ردیف ق
ردیف ک
ردیف م
ردیف ن
- تاثیر صبر میں نہ اثر اضطراب میں
- جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں
- تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں
ردیف و
- وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
- آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
- اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو
- ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو
ردیف ہ
ردیف ھ
ردیف ی
- اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
- نہ انتظار میں یاں آنکھ ایک آن لگی
- دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی
- ہوئی تاثیر آہ و زاری کی
- دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے
- وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھے
- کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے
- ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گے
- صبر وحشت اثر نہ ہو جائے
- میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے
- شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے