غزل
ردیف الف
- عکس رخ گلگوں سے تماشا نظر آیا
- خاکساری سے جو غافل دل غماز ہوا
- آئینہ کے عکس سے گل سا بدن میلا ہوا
- تصویر زلف و عارض گلفام لے گیا
- حلقہ حلقہ گھر بنا لخت دل بیتاب کا
- دل تو پژمردہ ہے داغ گلستاں ہوں تو کیا
- جب ہم بغل وہ سرو قبا پوش ہو گیا
- بے وقت جو گھر سے وہ مسیحا نکل آیا
- تمہارے گھر سے پس مرگ کس کے گھر جاتا
- دنیا سے داغ زلف سیہ فام لے گیا
- سبزہ تمہارے رخ کے لئے تنگ ہو گیا
- راہ کر کے اس بت گمراہ نے دھوکا دیا
- بڑھ چلا عشق تو دل چھوڑ کے دنیا اٹھا
- غم سہتے ہیں پر غمزۂ بے جا نہیں اٹھتا
ردیف ب
ردیف ت
ردیف ٹ
ردیف ر
ردیف ڑ
ردیف گ
ردیف ن
- اور مجھ سا جان دینے کا تمنائی نہیں
- ہاتھ ملواتی ہیں حوروں کو تمہاری چوڑیاں
- ہوتی ہے ہار جیت پنہاں بات بات میں
- راہ میں صورت نقش کف پا رہتا ہوں
- پیچ فقرے پر کیا جاتا نہیں
- کعبہ سے مجھ کو لائے سواد کنشت میں
- تیرے ہاتھوں سے مٹے گا نقش ہستی ایک دن
- جدائی کے صدموں کو ٹالے ہوئے ہیں
ردیف ہ
ردیف ی
- جلسوں میں گزرنے لگی پھر رات تمہاری
- ابرو کی تیری ضرب دو دستی چلی گئی
- وہ زلف ہوا سے مجھے برہم نظر آئی
- ترچھی نظر سے دیکھیے تلوار چل گئی
- اثر کر کے آہ رسا پھر گئی
- فوج مژگاں کا کچھ ارادہ ہے
- سخت جانی کا سہی افسانہ ہے
- خوبان فسوں گر سے ہم الجھا نہیں کرتے
- پہنچا ہے اس کے پاس یہ آئینہ ٹوٹ کے
- دشمن کی ملامت بلا ہے
- فصل بہار آئی ہے پیمانہ چاہئے
- بتوں کے گھر کی طرف کعبہ کے سفر سے پھرے
- آنکھیں خدا نے بخشی ہیں رونے کے واسطے
- اے بت جو شب ہجر میں دل تھام نہ لیتے
- میری شمع انجمن میں گل ہے گل میں خاک ہے
- ثابت رہا فلک مرے نالوں کے سامنے
- میں روتا ہوں آہ رسا بند ہے
- آخر کو راہ عشق میں ہم سر کے بل گئے
- قیدی ہوں سر زلف گرہ گیر سے پہلے
- شب کے ہیں ماہ مہر ہیں دن کے
- آمد تصور بت بیداد گر کی ہے
- زخمی نہ بھول جائیں مزے دل کی ٹیس کے
- ہماری روح جو تیری گلی میں آئی ہے
- روز دلہائے مے کشاں ٹوٹے
- عمر باقی راہ جاناں میں بسر ہونے کو ہے