غزل

ردیف الف

  1. عکس رخ گلگوں سے تماشا نظر آیا
  2. خاکساری سے جو غافل دل غماز ہوا
  3. آئینہ کے عکس سے گل سا بدن میلا ہوا
  4. تصویر زلف و عارض گلفام لے گیا
  5. حلقہ حلقہ گھر بنا لخت دل بیتاب کا
  6. دل تو پژمردہ ہے داغ گلستاں ہوں تو کیا
  7. جب ہم بغل وہ سرو قبا پوش ہو گیا
  8. بے وقت جو گھر سے وہ مسیحا نکل آیا
  9. تمہارے گھر سے پس مرگ کس کے گھر جاتا
  10. دنیا سے داغ زلف سیہ فام لے گیا
  11. سبزہ تمہارے رخ کے لئے تنگ ہو گیا
  12. راہ کر کے اس بت گمراہ نے دھوکا دیا
  13. بڑھ چلا عشق تو دل چھوڑ کے دنیا اٹھا
  14. غم سہتے ہیں پر غمزۂ بے جا نہیں اٹھتا

ردیف ب

  1. جو ذوق ہے کہ ہو دریافت آبروئے شراب

ردیف ت

  1. ایسی ہوئی سرسبز شکایت کی کڑی بات
  2. کرتا ہے باغ دہر میں نیرنگیاں بسنت

ردیف ٹ

  1. نازک ایسا نہیں کسی کا پیٹ

ردیف ر

  1. حال پوشیدہ کھلا سامان عبرت دیکھ کر
  2. ہے عید لاؤ مے لالہ فام اٹھ اٹھ کر

ردیف ڑ

  1. کچھ نہیں حاصل سپر کو چیر کو یا تلوار توڑ

ردیف گ

  1. کیوں کر شکار حسن نہ کھیلیں یہاں کے لوگ

ردیف ن

  1. اور مجھ سا جان دینے کا تمنائی نہیں
  2. ہاتھ ملواتی ہیں حوروں کو تمہاری چوڑیاں
  3. ہوتی ہے ہار جیت پنہاں بات بات میں
  4. راہ میں صورت نقش کف پا رہتا ہوں
  5. پیچ فقرے پر کیا جاتا نہیں
  6. کعبہ سے مجھ کو لائے سواد کنشت میں
  7. تیرے ہاتھوں سے مٹے گا نقش ہستی ایک دن
  8. جدائی کے صدموں کو ٹالے ہوئے ہیں

ردیف ہ

  1. نشہ میں سہواً کر لی توبہ

ردیف ی

  1. جلسوں میں گزرنے لگی پھر رات تمہاری
  2. ابرو کی تیری ضرب دو دستی چلی گئی
  3. وہ زلف ہوا سے مجھے برہم نظر آئی
  4. ترچھی نظر سے دیکھیے تلوار چل گئی
  5. اثر کر کے آہ رسا پھر گئی
  6. فوج مژگاں کا کچھ ارادہ ہے
  7. سخت جانی کا سہی افسانہ ہے
  8. خوبان فسوں گر سے ہم الجھا نہیں کرتے
  9. پہنچا ہے اس کے پاس یہ آئینہ ٹوٹ کے
  10. دشمن کی ملامت بلا ہے
  11. فصل بہار آئی ہے پیمانہ چاہئے
  12. بتوں کے گھر کی طرف کعبہ کے سفر سے پھرے
  13. آنکھیں خدا نے بخشی ہیں رونے کے واسطے
  14. اے بت جو شب ہجر میں دل تھام نہ لیتے
  15. میری شمع انجمن میں گل ہے گل میں خاک ہے
  16. ثابت رہا فلک مرے نالوں کے سامنے
  17. میں روتا ہوں آہ رسا بند ہے
  18. آخر کو راہ عشق میں ہم سر کے بل گئے
  19. قیدی ہوں سر زلف گرہ گیر سے پہلے
  20. شب کے ہیں ماہ مہر ہیں دن کے
  21. آمد تصور بت بیداد گر کی ہے
  22. زخمی نہ بھول جائیں مزے دل کی ٹیس کے
  23. ہماری روح جو تیری گلی میں آئی ہے
  24. روز دلہائے مے کشاں ٹوٹے
  25. عمر باقی راہ جاناں میں بسر ہونے کو ہے