غزل

ردیف الف

  1. جب برق پاش جلوۂ جانانہ بن گیا
  2. ساز دل تشنۂ مضراب تمنا نہ رہا
  3. ہمارا جذب صادق شوق کامل دیکھتے جاؤ
  4. اب زندگی میں ہوش کا امکان تو گیا
  5. بے نیاز ہر تمنا ہو گیا
  6. طور بن کر جل گیا یا شوق موسیٰ ہو گیا
  7. محبت میں اک ایسا بھی مقام آتا ہے مشکل کا

ردیف ح

  1. بیان سن نہ سکا جب کوئی بیاں کی طرح

ردیف ک

  1. یہی ہیں برق کی جولانیاں تو آشیاں کب تک

ردیف ن

  1. وہ محبت وہ دل وہ خو ہی نہیں
  2. ڈھونڈ لیں ہم کو ہماری جو خبر رکھتے ہیں
  3. نہ ابتدا ہوں کسی کی نہ انتہا ہوں میں

ردیف و

  1. محبت ہے تو پھر اندازۂ شوق وفا کیوں ہو

ردیف ی

  1. ہر مصیبت بھی شادمانی تھی
  2. زمانہ میں فسانہ بن گئی دیوانگی میری
  3. محبت ابتدا ہے ہر خبر کی
  4. ہوتی ہے طبیعت ہی خدا داد کسی کی
  5. بخت کو رویا کئے اور آشیاں دیکھا کئے
  6. ادب سے شکوۂ غم ہو رہا ہے
  7. کن الجھنوں میں چھوڑ گئی جستجو مجھے
  8. مآل جور سمجھے اور نہ انجام وفا سمجھے
  9. خوشی کی حد غموں کی انتہا معلوم ہوتی ہے
  10. دل میں ہجوم شوق و تمنا لیے ہوئے
  11. تاب دیدار لا نہیں سکتے