غزل
ردیف الف
- جب برق پاش جلوۂ جانانہ بن گیا
- ساز دل تشنۂ مضراب تمنا نہ رہا
- ہمارا جذب صادق شوق کامل دیکھتے جاؤ
- اب زندگی میں ہوش کا امکان تو گیا
- بے نیاز ہر تمنا ہو گیا
- طور بن کر جل گیا یا شوق موسیٰ ہو گیا
- محبت میں اک ایسا بھی مقام آتا ہے مشکل کا
ردیف ح
ردیف ک
ردیف ن
- وہ محبت وہ دل وہ خو ہی نہیں
- ڈھونڈ لیں ہم کو ہماری جو خبر رکھتے ہیں
- نہ ابتدا ہوں کسی کی نہ انتہا ہوں میں
ردیف و
ردیف ی
- ہر مصیبت بھی شادمانی تھی
- زمانہ میں فسانہ بن گئی دیوانگی میری
- محبت ابتدا ہے ہر خبر کی
- ہوتی ہے طبیعت ہی خدا داد کسی کی
- بخت کو رویا کئے اور آشیاں دیکھا کئے
- ادب سے شکوۂ غم ہو رہا ہے
- کن الجھنوں میں چھوڑ گئی جستجو مجھے
- مآل جور سمجھے اور نہ انجام وفا سمجھے
- خوشی کی حد غموں کی انتہا معلوم ہوتی ہے
- دل میں ہجوم شوق و تمنا لیے ہوئے
- تاب دیدار لا نہیں سکتے