دیوان طالب مانکپوری (۱۹۳۳)

ردیف الف

  1. دل کو پیری میں محبت کا تری جوش آیا
  2. دل جو پہلے ہی سے محو رخ جاناں ہوتا
  3. پردۂ چشم سے لہو نکلا
  4. مہرباں مجھ پہ دم نزع وہ گلفام ہوا
  5. میں نہ ہوں گا کبھی تجھ سے بت عیار جدا

ردیف ر

  1. دھیان عارض کا ہوا زلف چلیپا دیکھ کر

ردیف ظ

  1. بحث کرنے کی نہیں ہے مجھے عادت واعظ

ردیف م

  1. پھری ہے کیوں نگہ دل ربا نہیں معلوم

ردیف ن

  1. پرتو ہے تیرے رخ کا جو جام شراب میں
  2. ہاں کبھی ہے کبھی ہے یار نہیں

ردیف و

  1. غم سے فارغ ترے ہرگز دل ناشاد نہ ہو

ردیف ی

  1. فصل گل آئی ہوا اور ہوئی
  2. شگفتہ اپنا دل داغدار رہتا ہے
  3. حال انجام سے پیری میں خبردار ہوئے