غزل
ردیف الف
- مانا وہ چھپنے والا ہر دل میں چھپ جائے گا
- اب دل میں تیرے تیر کا پیکاں نہیں رہا
- دل کے زخموں سے چمن میں شور برپا کر دیا
- یہ ہستئ دل اس پہ یہ طوفان تمنا
ردیف ن
- جو ملتے وہ تو اتنا پوچھتا میں
- جن کو ہر حالت میں خوش اور شادماں پاتا ہوں میں
- عکس ہے بے تابیوں کا دل کی ارمانوں میں کیوں