غزل
ردیف الف
- اس نے مے پی کے سر بزم جو ساغر الٹا
- خوگر لذت ہوں میں کس شوخ کی تعزیر کا
- مجسم داغ حسرت ہوں سراپا نقش عبرت کا
- بعد مدت جو میں اے چرخ کہن یاد آیا
- ترے وعدے کا ہر اک کو اگر اعتبار ہوتا
- سارے عالم سے مرے غم کا ہے افسانہ جدا
- کیوں کہتے ہو کیا میری جفا کو نہیں دیکھا
- ہجر میں ناشاد دنیا سے دل مضطر گیا
- معنی طراز عشق ہر اک بادہ خوار تھا
- وہ تغافل کو علاج غم پنہاں سمجھا
- کوئی ارماں تلاش دوست کا کیوں دل میں رہ جاتا
- جو مدتوں میں کسی شوخ کا شباب آیا
ردیف ت
ردیف ح
ردیف ر
ردیف ف
ردیف ق
ردیف ن
- کوئی مجھ سا مستحق رحم و غم خواری نہیں
- کچھ خوشی سے ہمیں عشق ستم ایجاد نہیں
- کثرت سے داغ ہیں جو غم عشق خال میں
- پس توبہ حدیث مطرب و پیمانہ کہتے ہیں