غزل

ردیف الف

  1. اس نے مے پی کے سر بزم جو ساغر الٹا
  2. خوگر لذت ہوں میں کس شوخ کی تعزیر کا
  3. مجسم داغ حسرت ہوں سراپا نقش عبرت کا
  4. بعد مدت جو میں اے چرخ کہن یاد آیا
  5. ترے وعدے کا ہر اک کو اگر اعتبار ہوتا
  6. سارے عالم سے مرے غم کا ہے افسانہ جدا
  7. کیوں کہتے ہو کیا میری جفا کو نہیں دیکھا
  8. ہجر میں ناشاد دنیا سے دل مضطر گیا
  9. معنی طراز عشق ہر اک بادہ خوار تھا
  10. وہ تغافل کو علاج غم پنہاں سمجھا
  11. کوئی ارماں تلاش دوست کا کیوں دل میں رہ جاتا
  12. جو مدتوں میں کسی شوخ کا شباب آیا

ردیف ت

  1. صبح کو حشر بھی ہے کٹ گئی گر آج کی رات

ردیف ح

  1. شوق دل فکر دہن میں ہے جو رہبر کی طرح
  2. ان کی رخصت اک قیامت تھی دم اظہار صبح

ردیف ر

  1. رہا کرتے ہیں مے خانوں میں ہم پیر مغاں ہو کر

ردیف ف

  1. کھینچ کر یوں لے چلی وحشت بیاباں کی طرف

ردیف ق

  1. انتظار حشر کر سکتے نہیں ناکام عشق

ردیف ن

  1. کوئی مجھ سا مستحق رحم و غم خواری نہیں
  2. کچھ خوشی سے ہمیں عشق ستم ایجاد نہیں
  3. کثرت سے داغ ہیں جو غم عشق خال میں
  4. پس توبہ حدیث مطرب و پیمانہ کہتے ہیں

ردیف ہ

  1. ہاتھ رکھتے ہی تھا حال قلب مضطر آئینہ

ردیف ی

  1. کاروبار عشق کی کثرت کبھی ایسی نہ تھی
  2. ضبط سے دل نزار رہتا ہے