کلیات وہبی (۱۸۷۰)

ردیف الف

  1. نخل امید میں ثمر آیا
  2. جھڑکی نہیں دیتے ہیں کہ غصہ نہیں ہوتا
  3. اس سنگ دل کے دل میں محبت نے گھر کیا

ردیف پ

  1. عشق صادق نے دکھایا یہ اثر آپ سے آپ

ردیف ت

  1. آہ میں کچھ نظر آئی نہ اثر کی صورت

ردیف ح

  1. ہو نہ رسوائے زمانہ مہ کامل کی طرح

ردیف ن

  1. سمایا جب سے ہے وہ گلعذار آنکھوں میں
  2. جان جاتی ہے مری ان کو خبر کچھ بھی نہیں

ردیف و

  1. دل میں اس بانیٔ بیداد کے گھر ہونے دو

ردیف ی

  1. شب وصل انہیں ضد اگر ہو گئی
  2. غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہے
  3. ہوں دفن مر کے کوچۂ جاناں کے سامنے
  4. عشق ابرو کا ہوا زلف رسا سے پہلے
  5. شب فراق میں رویا کیا سحر کے لئے