نہ تو ملنے کے اب قابل رہا ہے

ردیف: رہا ہے

نہ تو ملنے کے اب قابل رہا ہے

نہ مج کو وہ دماغ و دل رہا ہے

یہ دل کب عشق کے قابل رہا ہے

کہاں اس کو دماغ و دل رہا ہے

خدا کے واسطے اس کو نہ ٹوکو

یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے

نہیں آتا اسے تکیہ پہ آرام

یہ سر پاؤں سے تیرے ہل رہا ہے

ماخذ: ویکی ماخذ · مظہر جان جاناں