غزل
ردیف الف
- علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا
- آرزو دل میں بنائے ہوئے گھر ہے بھی تو کیا
- اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیا
- کسی بت کی ادا نے مار ڈالا
- حوصلہ امتحان سے نکلا
- دل کا معاملہ جو سپرد نظر ہوا
- رخ کسی کا نظر نہیں آتا
- دل لے کے حسینوں نے یہ دستور نکالا
- دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوا
- ہجر میں ہو گیا وصال کا کیا
- جب کہا تیر تری آنکھ نے اکثر مارا
- کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھا
- کیا کہوں حسرت دیدار نے کیا کیا کھینچا
ردیف ر
ردیف ن
- نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
- انہیں لوگوں کی بدولت یہ حسیں اچھے ہیں
- سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیں
- آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میں
- مرے ارمان مایوسی کے پالے پڑتے جاتے ہیں
- اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میں
- عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میں
- عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیں
- ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میں
- مائل صحبت اغیار تو ہم ہیں تم کون
- پردۂ درد میں آرام بٹا کرتے ہیں
- زیر زمیں رہوں کہ تہہ آسماں رہوں
ردیف و
- اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو
- میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہو
- محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو
- گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لو
- جب کہا میں ہوں ترے عشق میں بدنام کہ تو
ردیف ی
- پوچھا کہ وجہ زندگی بولے کہ دل داری مری
- اتنے اچھے ہو کہ بس توبہ بھلی
- محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھی
- وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئی
- تیری رنگت بہار سے نکلی
- دم آخر مصیبت کاٹ دو بہر خدا میری
- جفا سے وفا مسترد ہو گئی
- محبت کر کے لاکھوں رنج جھیلے بیکلی پائی
- رواں رہتا ہے کس کی موج میں دن رات تو پانی
- جان یہ کہہ کے بت ہوش ربا نے لے لی
- مکتب کی عاشقی بھی تاریخ زندگی تھی
- تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہے
- آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرے
- وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے
- سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والے
- اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرے
- کسی کے سنگ در سے اپنی میت لے کے اٹھیں گے
- اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے
- جدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے
- فصل گل بھی ترس کے کاٹی ہے
- جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہم
- انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے
- یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے
- چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہے
- بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالے
- وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھے
- جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہے
- ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سے
- اپنے عہد وفا کو بھول گئے
- نہ بلوایا نہ آئے روز وعدہ کر کے دن کاٹے
- جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے
- دور کیوں جاؤں یہیں جلوہ نما بیٹھا ہے
- اک پردہ نشیں کی آرزو ہے
- غرور الفت کی طرز نازش عجب کرشمے دکھا رہی ہے
- محبت ابتدا میں کچھ نہیں معلوم ہوتی ہے
- محبت باعث نا مہربانی ہوتی جاتی ہے
- جو مے دل سے پئے کوئی تو پھر رخنے نہیں رہتے
- مخالف ہے صبائے نامہ بر کچھ اور کہتی ہے
- میرے ارماں وہ سدھارے یوں کے یونہیں رہ گئے
- دل دادگان حسن سے پردا نہ چاہئے
- ہم وفا کرتے ہیں ہم پر جور کوئی کیوں کرے
- اک نقش خیال رو بہ رو ہے