غزل

ردیف الف

  1. ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیا
  2. آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا
  3. درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھا
  4. بجھ گئی شمع حرم باب کلیسا نہ کھلا
  5. کیا کیا نظر کو شوق ہوس دیکھنے میں تھا
  6. اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیا
  7. کف مومن سے نہ دروازۂ دوراں سے ملا
  8. بزرگو، ناصحو، فرماں رواؤ
  9. گریہ تو اکثر رہا پیہم رہا
  10. جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیا
  11. سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا

ردیف ح

  1. تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح

ردیف ر

  1. نگر نگر میلے کو گئے کون سنے گا تیری پکار

ردیف ل

  1. ہر طرف انبساط ہے اے دل

ردیف ن

  1. تری تلاش میں ہر رہنما سے باتیں کیں
  2. غم دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلن
  3. بیٹھا ہوں سیہ بخت و مکدر اسی گھر میں
  4. ہوئی ایجاد نئی طرز خوشامد کہ نہیں

ردیف ہ

  1. چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

ردیف ھ

  1. قدم قدم پہ تمنائے التفات تو دیکھ

ردیف ی

  1. وہ عہد عہد ہی کیا ہے جسے نبھاؤ بھی
  2. فن کار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی
  3. جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی
  4. لوگوں کی ملامت بھی ہے خود درد سری بھی
  5. کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
  6. یوں تو وہ ہر کسی سے ملتی ہے
  7. سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے
  8. روکتا ہے غم اظہار سے پندار مجھے
  9. کسی تو کام زمانے کے سوگوار آئے
  10. کبھی جھڑکی سے کبھی پیار سے سمجھاتے رہے
  11. زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
  12. کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
  13. اس قدر اب غم دوراں کی فراوانی ہے