غزل
ردیف الف
- ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیا
- آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا
- درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھا
- بجھ گئی شمع حرم باب کلیسا نہ کھلا
- کیا کیا نظر کو شوق ہوس دیکھنے میں تھا
- اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیا
- کف مومن سے نہ دروازۂ دوراں سے ملا
- بزرگو، ناصحو، فرماں رواؤ
- گریہ تو اکثر رہا پیہم رہا
- جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیا
- سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا
ردیف ح
ردیف ر
ردیف ل
ردیف ن
- تری تلاش میں ہر رہنما سے باتیں کیں
- غم دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلن
- بیٹھا ہوں سیہ بخت و مکدر اسی گھر میں
- ہوئی ایجاد نئی طرز خوشامد کہ نہیں
ردیف ہ
ردیف ھ
ردیف ی
- وہ عہد عہد ہی کیا ہے جسے نبھاؤ بھی
- فن کار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی
- جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی
- لوگوں کی ملامت بھی ہے خود درد سری بھی
- کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
- یوں تو وہ ہر کسی سے ملتی ہے
- سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے
- روکتا ہے غم اظہار سے پندار مجھے
- کسی تو کام زمانے کے سوگوار آئے
- کبھی جھڑکی سے کبھی پیار سے سمجھاتے رہے
- زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
- کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
- اس قدر اب غم دوراں کی فراوانی ہے