غزل
ردیف الف
- آج ہی کیا آگ ہے، سرگرمِ کیں تو کب نہ تھا
- اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیا
- اُس بزم میں ہر ایک سے کم تر نظر آیا
- اس جنبشِ ابرو کا گلہ ہو نہیں سکتا
- بس کہ آغازِ محبت میں ہوا کام اپنا
- پلا جام ساقی مے ناب کا
- تقلیدِ عدو سے ہمیں ابرام نہ ہو گا
- جب رقیبوں کا ستم یاد آیا
- جب سے عطا ہوا ہمیں خلعت حیات کا
- جفا و جور کا اس سے گلہ کیا
- جی داغِ غمِ رشک سے جل جائے تو اچھا
- خواہاں ہوں بوئے باغِ تنزہ شمیم کا
- دیکھوں تو کہاں تک وہ تلطف نہیں کرتا
- رات واں گل کی طرح سے جسے خنداں دیکھا
- سب حوصلہ جو صرف ہوا جورِ یار کا
- صبح ہوتے ہی گیا گھر مہِ تاباں میرا
- قبر پر وہ بتِ گل فام آیا
- قبر سے اٹھ کے یہی دھیان مکرر آیا
- غم غلط کرنے کو احباب ہمیں جانبِ باغ
- کہا کل میں نے اے سرمایۂ ناز
- کچھ امتیاز مجھ کو نہ مے کا نہ سارکا
- کل نغمہ گر جو مطربِ جادو ترانہ تھا
- کیا فائدہ نصیحتِ نا سود مند کا
- کیا لائقِ زکوٰۃ کوئی بے نوا نہ تھا
- گور میں یادِ قدِ یار نے سونے نہ دیا
- محو ہوں میں جو اس ستمگر کا
- میں پریشاں گرد اور محفل نشیں تو کب نہ تھا
- میں وصل میں بھی شیفتہ حسرت طلب رہا
- نہ اس زمانے میں چرچا ہے دانش و دیں کا
- ہائے اس برقِ جہاں سوز پر آنا دل کا
- ہم پر ہے التفات ہمارے حبیب کا
- وہ پری وش عشق کے افسوں سے مائل ہو گیا
- یار کو محرومِ تماشا کیا
- یہ فیضِ عام شیوہ کہاں تھا نسیم کا
ردیف ب
- تھا غیر کا جو رنجِ جدائی تمام شب
- کیا اٹھ گیا ہے دیدۂ اغیار سے حجاب
- یوں بزمِ گل رخاں میں ہے اس دل کو اضطراب
ردیف ت
ردیف ث
ردیف ج
ردیف چ
ردیف ح
ردیف خ
ردیف د
ردیف ذ
ردیف ر
- تھا قصدِ بوسہ نشے میں سرشار دیکھ کر
- شیفتہ آیا ہوں میں کس کا تماشا دیکھ کر
- وصل کے لطف اُٹھاؤں کیوں کر
- یوں پاس بوالہوس رہیں چشمِ غضب سے دور
ردیف ز
ردیف س
ردیف ش
ردیف ص
ردیف ض
ردیف ط
ردیف ظ
ردیف ع
ردیف غ
ردیف ف
ردیف ق
ردیف ک
ردیف ل
- اصحابِ درد کو ہے عجب تیزیِ خیال
- بلبل کو بھی نہیں ہے دماغِ صدائے گل
- طالعِ خفتۂ دشمن نہ جگانا شبِ وصل
- یہ بات تو غلط ہے کہ دیوانِ شیفتہ
- یاں کے آنے میں نہیں ان کو جو تمکیں کا خیال
ردیف م
- بچتے ہیں اس قدر جو اُدھر کی ہوا سے ہم
- کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم
- گہ ہم سے خفا وہ ہیں گہے ان سے خفا ہم
- مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہم
- مطبوع یار کو ہے جفا اور جفا کو ہم
ردیف ن
- اثر آہ دل زار کی افواہیں ہیں
- تنگ تھی جا خاطر ناشاد میں
- دل کا گلہ فلک کی شکایت یہاں نہیں
- روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں
- شب وصل کی بھی چین سے کیوں کر بسر کریں
- شکوہ جفا کا کیجے تو کہتے ہیں کیا کروں
- شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میں
- کب نگہ اس کی عشوہ بار نہیں
- کب ہاتھ کو خیالِ جزائے رفو نہیں
- کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیں
- کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں
- کون سے دن تری یاد اے بت سفاک نہیں
- کیوں نہ اڑ جائے مرا خواب ترے کوچے میں
- مانا سحر کو یار اسے جلوہ گر کریں
- یہ پیچ و تاب میں شبِ غم بے حواسیاں