غزل

ردیف الف

  1. آج ہی کیا آگ ہے، سرگرمِ کیں تو کب نہ تھا
  2. اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیا
  3. اُس بزم میں ہر ایک سے کم تر نظر آیا
  4. اس جنبشِ ابرو کا گلہ ہو نہیں سکتا
  5. بس کہ آغازِ محبت میں ہوا کام اپنا
  6. پلا جام ساقی مے ناب کا
  7. تقلیدِ عدو سے ہمیں ابرام نہ ہو گا
  8. جب رقیبوں کا ستم یاد آیا
  9. جب سے عطا ہوا ہمیں خلعت حیات کا
  10. جفا و جور کا اس سے گلہ کیا
  11. جی داغِ غمِ رشک سے جل جائے تو اچھا
  12. خواہاں ہوں بوئے باغِ تنزہ شمیم کا
  13. دیکھوں تو کہاں تک وہ تلطف نہیں کرتا
  14. رات واں گل کی طرح سے جسے خنداں دیکھا
  15. سب حوصلہ جو صرف ہوا جورِ یار کا
  16. صبح ہوتے ہی گیا گھر مہِ تاباں میرا
  17. قبر پر وہ بتِ گل فام آیا
  18. قبر سے اٹھ کے یہی دھیان مکرر آیا
  19. غم غلط کرنے کو احباب ہمیں جانبِ باغ
  20. کہا کل میں نے اے سرمایۂ ناز
  21. کچھ امتیاز مجھ کو نہ مے کا نہ سارکا
  22. کل نغمہ گر جو مطربِ جادو ترانہ تھا
  23. کیا فائدہ نصیحتِ نا سود مند کا
  24. کیا لائقِ زکوٰۃ کوئی بے نوا نہ تھا
  25. گور میں یادِ قدِ یار نے سونے نہ دیا
  26. محو ہوں میں جو اس ستمگر کا
  27. میں پریشاں گرد اور محفل نشیں تو کب نہ تھا
  28. میں وصل میں بھی شیفتہ حسرت طلب رہا
  29. نہ اس زمانے میں چرچا ہے دانش و دیں کا
  30. ہائے اس برقِ جہاں سوز پر آنا دل کا
  31. ہم پر ہے التفات ہمارے حبیب کا
  32. وہ پری وش عشق کے افسوں سے مائل ہو گیا
  33. یار کو محرومِ تماشا کیا
  34. یہ فیضِ عام شیوہ کہاں تھا نسیم کا

ردیف ب

  1. تھا غیر کا جو رنجِ جدائی تمام شب
  2. کیا اٹھ گیا ہے دیدۂ اغیار سے حجاب
  3. یوں بزمِ گل رخاں میں ہے اس دل کو اضطراب

ردیف ت

  1. دشمن سے ہے میرے دلِ مضطر کی شکایت

ردیف ث

  1. اُس وفا کی مجھ سے پھر امیدواری ہے عبث
  2. نہ کر فاش رازِ گلستاں عبث

ردیف ج

  1. اے شیفتہ نویدِ شبِ غم سحر ہے آج

ردیف چ

  1. شیفتہ ہجر میں تو نالۂ شب گیر نہ کھینچ

ردیف ح

  1. ناصح تپاں ہے، شیفتۂ نیم جاں کی طرح

ردیف خ

  1. دیا ہے بوسہ مجھے جب کہ میں ہوا گستاخ

ردیف د

  1. روزِ غم میں کیا قیامت ہے شبِ عشرت کی یاد

ردیف ذ

  1. طلبِ بوسہ پر اس لب سے شکر آب لذیذ

ردیف ر

  1. تھا قصدِ بوسہ نشے میں سرشار دیکھ کر
  2. شیفتہ آیا ہوں میں کس کا تماشا دیکھ کر
  3. وصل کے لطف اُٹھاؤں کیوں کر
  4. یوں پاس بوالہوس رہیں چشمِ غضب سے دور

ردیف ز

  1. ہم بے نشان اور وفا کا نشاں ہنوز
  2. ہند کی وہ زمیں ہے عشرت خیز

ردیف س

  1. دور رہنا ہم سے کب تک اور بے گانے کے پاس

ردیف ش

  1. اُٹھے نہ چھوڑ کے ہم آستانِ بادہ فروش

ردیف ص

  1. اُن کو دسشمن سے ہے محبت خاص

ردیف ض

  1. ہے دل کو یوں ترے دمِ اعجاز اثر سے فیض

ردیف ط

  1. لازم ہے بے وفا تجھے اہلِ وفا سے ربط

ردیف ظ

  1. ترے فسوں کی نہیں میرے دل میں جا واعظ

ردیف ع

  1. خورشید کو اگرچہ نہ پہنچے ضیائے شمع

ردیف غ

  1. کیا غیر تھا کہ شب کو نہ تھا جلوہ گر چراغ

ردیف ف

  1. واں ہوا پردہ اٹھانا موقوف

ردیف ق

  1. پابندیِ وحشت میں زنجیر کے مشتاق

ردیف ک

  1. رہ جائے کیوں نہ ہجر میں جاں آ کے لب تلک

ردیف ل

  1. اصحابِ درد کو ہے عجب تیزیِ خیال
  2. بلبل کو بھی نہیں ہے دماغِ صدائے گل
  3. طالعِ خفتۂ دشمن نہ جگانا شبِ وصل
  4. یہ بات تو غلط ہے کہ دیوانِ شیفتہ
  5. یاں کے آنے میں نہیں ان کو جو تمکیں کا خیال

ردیف م

  1. بچتے ہیں اس قدر جو اُدھر کی ہوا سے ہم
  2. کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم
  3. گہ ہم سے خفا وہ ہیں گہے ان سے خفا ہم
  4. مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہم
  5. مطبوع یار کو ہے جفا اور جفا کو ہم

ردیف ن

  1. اثر آہ دل زار کی افواہیں ہیں
  2. تنگ تھی جا خاطر ناشاد میں
  3. دل کا گلہ فلک کی شکایت یہاں نہیں
  4. روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں
  5. شب وصل کی بھی چین سے کیوں کر بسر کریں
  6. شکوہ جفا کا کیجے تو کہتے ہیں کیا کروں
  7. شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میں
  8. کب نگہ اس کی عشوہ بار نہیں
  9. کب ہاتھ کو خیالِ جزائے رفو نہیں
  10. کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیں
  11. کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں
  12. کون سے دن تری یاد اے بت سفاک نہیں
  13. کیوں نہ اڑ جائے مرا خواب ترے کوچے میں
  14. مانا سحر کو یار اسے جلوہ گر کریں
  15. یہ پیچ و تاب میں شبِ غم بے حواسیاں

ردیف و

  1. ہے بد بلا کسی کو غم جاوداں نہ ہو

ردیف ھ

  1. اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمۂ سرا دیکھ

ردیف ی

  1. دل لیا جس نے بے وفائی کی
  2. عشق کی میرے جو شہرت ہو گئی
  3. ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہے
  4. جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیے
  5. دست عدو سے شب جو وہ ساغر لیا کیے
  6. کہوں میں کیا کہ کیا درد نہاں ہے