غزل
ردیف الف
- زیر زمیں ہوں تشنۂ دیدار یار کا
- پردہ الٹ کے اس نے جو چہرا دکھا دیا
- نہ کوئی ان کے سوا اور جان جاں دیکھا
- مثال تار نظر کیا نظر نہیں آتا
- مطلب نہ کعبہ سے نہ ارادہ کنشت کا
- لاکھ پردے سے رخ انور عیاں ہو جائے گا
- لب رنگیں سے اگر تو گہر افشاں ہوتا
- کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتا
- گیا شباب نہ پیغام وصل یار آیا
- چاند سا چہرہ جو اس کا آشکارا ہو گیا
- اثر زلف کا برملا ہو گیا