غزل

ردیف الف

  1. زیر زمیں ہوں تشنۂ دیدار یار کا
  2. پردہ الٹ کے اس نے جو چہرا دکھا دیا
  3. نہ کوئی ان کے سوا اور جان جاں دیکھا
  4. مثال تار نظر کیا نظر نہیں آتا
  5. مطلب نہ کعبہ سے نہ ارادہ کنشت کا
  6. لاکھ پردے سے رخ انور عیاں ہو جائے گا
  7. لب رنگیں سے اگر تو گہر افشاں ہوتا
  8. کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتا
  9. گیا شباب نہ پیغام وصل یار آیا
  10. چاند سا چہرہ جو اس کا آشکارا ہو گیا
  11. اثر زلف کا برملا ہو گیا

ردیف ن

  1. وہ شاہ حسن جو بے مثل ہے حسینوں میں
  2. بے بلائے ہوئے جانا مجھے منظور نہیں

ردیف ی

  1. دیکھی جو زلف یار طبیعت سنبھل گئی
  2. وحشت میں بھی رخ جانب صحرا نہ کریں گے
  3. شمع بھی اس صفا سے جلتی ہے
  4. رنگ سے پیرہن سادہ حنائی ہو جائے
  5. قمر کی وہ خورشید تصویر ہے
  6. نہ رہے نامہ و پیغام کے لانے والے
  7. میں اگر رونے لگوں رتبۂ والا بڑھ جائے
  8. جب عیاں صبح کو وہ نور مجسم ہو جائے
  9. اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے