کارستان فصاحت (۱۸۹۳)

ردیف الف

  1. یہ جس نے جان دی ہے نان دے گا
  2. منصور پیتے ہی مئے الفت بہک گیا
  3. در پہ اس شوخ کے جب جا بیٹھا
  4. مبتلا یہ دل ہوا جب یار ننگا ہو گیا

ردیف ن

  1. بزم عالم میں بہت سے ہم نے مارے ہاتھ پاؤں
  2. دیر و حرم کو چھوڑ کے اے دل چل بیٹھو میخانے میں
  3. جور افلاک بسکہ جھیلے ہیں

ردیف و

  1. دنیا میں یہی چور بناتا ہے عسس کو
  2. ممکن مجھے جو ہو بے ریا ہو
  3. فغان و آہ سے پیدا کیا درد جدائی کو

ردیف ھ

  1. یاد ہے روز ازل اس نے کہا کیا کیا کچھ

ردیف ی

  1. جوانی کی حالت گزر جائے گی
  2. میٹھی ہے ایسی بات اس کی
  3. قاتل عالم سے کیا یارانہ ہے
  4. ہمیشہ سیر گل و لالہ زار باقی ہے
  5. جان دی ان پہ مر مٹے سسکے
  6. کلی جو گل کی چٹک رہی ہے طبیعت اپنی کھٹک رہی ہے
  7. آپ آئے تھے یاں جفا کے لئے
  8. رہ گئے اشکوں میں لخت جگر آتے آتے
  9. کرتے ہیں چین بیٹھے حسن و جمال والے
  10. نفس سگ پلید کو گر اپنے ماریے
  11. صرصر گیسو ہلا رہی ہے
  12. فغان و آہ ہے ہر دم پکار رکھتا ہے
  13. صبح دم اٹھ کر ترا پہلو سے جانا یاد ہے
  14. حسن کی دل میں مرے جلوہ گری رہتی ہے