غزل

ردیف الف

  1. تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
  2. صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیا
  3. مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا
  4. کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا
  5. کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا
  6. جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا
  7. ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا
  8. دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا
  9. دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا
  10. دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا
  11. چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا
  12. بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا
  13. بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھنا
  14. باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کا
  15. اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا
  16. اے دیدہ خانماں تو ہمارا ڈبو سکا
  17. آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا

ردیف ت

  1. ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست
  2. ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارت
  3. دیکھے بلبل جو یار کی صورت

ردیف ث

  1. کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث

ردیف ح

  1. تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح

ردیف ر

  1. دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار

ردیف ز

  1. کس کے ہیں زیر زمیں دیدۂ نم ناک ہنوز

ردیف ش

  1. یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردش
  2. دیں شیخ و برہمن نے کیا یار فراموش

ردیف ص

  1. ایک ہم سے تجھے نہیں اخلاص
  2. آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص

ردیف ف

  1. دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف

ردیف م

  1. نے غرض کفر سے رکھتے ہیں نہ اسلام سے کام
  2. لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم

ردیف ن

  1. وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں
  2. مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میں
  3. گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں
  4. گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں
  5. عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں

ردیف و

  1. ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو
  2. کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کو
  3. دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہو
  4. بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو

ردیف ھ

  1. بارہا دل کو میں سمجھا کے کہا کیا کیا کچھ

ردیف ی

  1. گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
  2. بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی
  3. اے آہ تری قدر اثر نے تو نہ جانی
  4. یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے
  5. تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے
  6. نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے
  7. مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کے
  8. جو گل ہے یاں سو اس گل رخسار ساتھ ہے
  9. جس دم وہ صنم سوار ہووے
  10. جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے
  11. جب نظر اس کی آن پڑتی ہے
  12. غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے
  13. گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے
  14. دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے
  15. برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے