غزل
ردیف الف
- تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
- صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیا
- مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا
- کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا
- کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا
- جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا
- ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا
- دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا
- دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا
- دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا
- چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا
- بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا
- بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھنا
- باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کا
- اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا
- اے دیدہ خانماں تو ہمارا ڈبو سکا
- آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا
ردیف ت
ردیف ث
ردیف ح
ردیف ر
ردیف ز
ردیف ش
ردیف ص
ردیف ف
ردیف م
ردیف ن
- وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں
- مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میں
- گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں
- گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں
- عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں
ردیف و
- ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو
- کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کو
- دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہو
- بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو
ردیف ھ
ردیف ی
- گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
- بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی
- اے آہ تری قدر اثر نے تو نہ جانی
- یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے
- تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے
- نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے
- مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کے
- جو گل ہے یاں سو اس گل رخسار ساتھ ہے
- جس دم وہ صنم سوار ہووے
- جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے
- جب نظر اس کی آن پڑتی ہے
- غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے
- گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے
- دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے
- برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے