غزل
ردیف الف
- ذوق سرمستی کو محو روئے جاناں کر دیا
- یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوا
- مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا
- مے بے رنگ کا سو رنگ سے رسوا ہونا
- کون تھا اس کے ہوا خواہوں میں جو شامل نہ تھا
- حسن کو وسعتیں جو دیں عشق کو حوصلہ دیا
- آلام روزگار کو آساں بنا دیا
ردیف ح
ردیف ز
ردیف ن
- صرف اک سوز تو مجھ میں ہے مگر ساز نہیں
- پاتا نہیں جو لذت آہ سحر کو میں
- موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میں
- متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیں
- گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاں
- عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیں
ردیف ی
- یوں نہ مایوس ہو اے شورش ناکام ابھی
- ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دی
- سامنے ان کے تڑپ کر اس طرح فریاد کی
- ہے دل ناکام عاشق میں تمہاری یاد بھی
- یہ ننگ عاشقی ہے سود و حاصل دیکھنے والے
- یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہے
- وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے
- شکوہ نہ چاہیئے کہ تقاضا نہ چاہیئے
- رقص مستی دیکھتے جوش تمنا دیکھتے
- پاس ادب میں جوش تمنا لئے ہوئے
- نہ یہ شیشہ نہ یہ ساغر نہ یہ پیمانہ بنے
- مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہے
- کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے
- خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سے
- جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہے
- جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہے
- جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسے
- عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہے
- عشق ہے اک کیف پنہانی مگر رنجور ہے
- گم کر دیا ہے دید نے یوں سر بہ سر مجھے
- ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہے
- اک عالم حیرت ہے فنا ہے نہ بقا ہے
- اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئے
- آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہے