غزل

ردیف الف

  1. ذوق سرمستی کو محو روئے جاناں کر دیا
  2. یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوا
  3. مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا
  4. مے بے رنگ کا سو رنگ سے رسوا ہونا
  5. کون تھا اس کے ہوا خواہوں میں جو شامل نہ تھا
  6. حسن کو وسعتیں جو دیں عشق کو حوصلہ دیا
  7. آلام روزگار کو آساں بنا دیا

ردیف ح

  1. تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرح

ردیف ز

  1. نہ کھلے عقد ہائے ناز و نیاز

ردیف ن

  1. صرف اک سوز تو مجھ میں ہے مگر ساز نہیں
  2. پاتا نہیں جو لذت آہ سحر کو میں
  3. موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میں
  4. متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیں
  5. گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاں
  6. عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیں

ردیف ی

  1. یوں نہ مایوس ہو اے شورش ناکام ابھی
  2. ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دی
  3. سامنے ان کے تڑپ کر اس طرح فریاد کی
  4. ہے دل ناکام عاشق میں تمہاری یاد بھی
  5. یہ ننگ عاشقی ہے سود و حاصل دیکھنے والے
  6. یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہے
  7. وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے
  8. شکوہ نہ چاہیئے کہ تقاضا نہ چاہیئے
  9. رقص مستی دیکھتے جوش تمنا دیکھتے
  10. پاس ادب میں جوش تمنا لئے ہوئے
  11. نہ یہ شیشہ نہ یہ ساغر نہ یہ پیمانہ بنے
  12. مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہے
  13. کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے
  14. خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سے
  15. جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہے
  16. جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہے
  17. جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسے
  18. عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہے
  19. عشق ہے اک کیف پنہانی مگر رنجور ہے
  20. گم کر دیا ہے دید نے یوں سر بہ سر مجھے
  21. ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہے
  22. اک عالم حیرت ہے فنا ہے نہ بقا ہے
  23. اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئے
  24. آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہے