غزل
ردیف الف
- واعظ پئے ہوئے ہوں خدا کے لئے نہ چھیڑ
- تم لے کے اپنے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنا
- تم خوب اڑاتے رہو خاکہ مرے دل کا
- شکر اس نے کیا لب پہ مگر نام نہ آیا
- پھر آ گئی اک بت پہ طبیعت کو ہوا کیا
- باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیا
- اشک گلگوں کو نہ خون شہدا کو دیکھا
- اے ستم گر نہیں دیکھا جاتا