غزل

ردیف الف

  1. واعظ پئے ہوئے ہوں خدا کے لئے نہ چھیڑ
  2. تم لے کے اپنے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنا
  3. تم خوب اڑاتے رہو خاکہ مرے دل کا
  4. شکر اس نے کیا لب پہ مگر نام نہ آیا
  5. پھر آ گئی اک بت پہ طبیعت کو ہوا کیا
  6. باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیا
  7. اشک گلگوں کو نہ خون شہدا کو دیکھا
  8. اے ستم گر نہیں دیکھا جاتا

ردیف ت

  1. کس منہ سے کروں میں تن عریاں کی شکایت

ردیف ک

  1. بن بن کے بگڑ جائے گی تدبیر کہاں تک

ردیف ن

  1. نہ ہو شباب تو کیفیت شراب کہاں
  2. ڈوبا ہوا اٹھوں دم محشر شراب میں
  3. ایسی کیا تھیں عتاب کی باتیں
  4. آپ کیا ایک ستم گار بنے بیٹھے ہیں