دے جس کو شراب ناب پانی کا مزا
دے جس کو شراب ناب پانی کا مزا
کیا خاک ہے اس کو زندگانی کا مزا
اے جان جوانی وہ جواں مرگ مری
تجھ بن ہو ذرا جیسے جوانی کا مزا
دے جس کو شراب ناب پانی کا مزا
کیا خاک ہے اس کو زندگانی کا مزا
اے جان جوانی وہ جواں مرگ مری
تجھ بن ہو ذرا جیسے جوانی کا مزا
ماخذ: ویکی ماخذ · مرزا علی لطف