غزل

ردیف الف

  1. کس کو بہلاتے ہو شیشہ کا گلو ٹوٹ گیا

ردیف ک

  1. تیرے آگے یار نو یار کہن دونوں ہیں ایک

ردیف گ

  1. شمع نازاں ہے فقط سر سے بھڑک جانے میں آگ

ردیف ن

  1. تم ہو بزم عیش ہے واں اور صحبت داریاں

ردیف ی

  1. وہ صفائی کبھی جو ہم سے ملاقات میں تھی
  2. دیکھنا جن صورتوں کا شکل تھی آرام کی
  3. نہ اتنا کیجے طلب گار کون آپ کا ہے
  4. جس دن سے ہم جنوں کے ہیں داماں لگے ہوئے
  5. سینکڑوں گل ہوئے خوش رنگ چمن میں کھل کے
  6. خوبی کا تیری بسکہ اک عالم گواہ ہے