آپ کی گر مہربانی ہو چکی

ردیف: ہو چکی

آپ کی گر مہربانی ہو چکی

تو ہماری زندگانی ہو چکی

بیٹھ کر اٹھے نہ کوئے یار سے

انتہائے ناتوانی ہو چکی

ہنس دیا رونے پہ وہ اے چشم تر

آبرو اشکوں کی پانی ہو چکی

ماخذ: ویکی ماخذ · مرزا شوقؔ لکھنوی