غزل
ردیف الف
- جو کچھ کہ تو نے سر پہ مرے دل ربا کیا
- مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گا
- کوئی کر سکتا ہے یارو جیسا میں نے کام کیا
- مت بولیو تو اوس سے جہاں دارؔ دیکھنا
- یار جب ہم کنار ہووے گا
- جی بھرا آتا ہے خالی مے کا پیالہ دے گیا
- دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا
- نالہ جدھر میرا گزر کر گیا
- دل پر خوں جو جام ہے میرا
- میں تو سو بار ترے ملنے کو آیا تنہا
- سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھنا
ردیف د
ردیف ر
ردیف ف
ردیف ک
ردیف ھ
ردیف ی
- یک دو جام اور بھی دے تو ساقی
- کون سی بات تری ہم سے اٹھائی نہ گئی
- کل تک اس کی وہ مہربانی تھی
- دل پرستار ہیں سب خلق کے مورت کی تری
- جب آفتاب ہو طالع سریر حشمت پر
- اے ظالم ترے جب سے پالے پڑے
- تجھ بے وفا کی آہ کوئی چاہ کیا کرے
- یار کے بن بہار کیا کیجے
- جو کچھ کیا سو ہم نے کیا اپنی چاہ سے
- قسمت کو اپنے لکھے کے تئیں کون دھو سکے
- اس وقت بارے کچھ تو کرم بخشی کیجئے
- جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارے