دیوان
اب
خط
نسخ
نستعلیق
نسخ کی موٹائی
حروف کا سائز
رنگ
سپیا
فیروزی
نیلگوں
سبز
گلابی
ہندسے
١٢٣ مشرقی
123 مغربی
روشنی
روشن
تاریک
خودکار
مختار صدیقی
غزل
غزل
محفوظ کریں
ردیف الف
پھر بہار آئی ہے پھر جوش میں سودا ہوگا
ردیف ن
آخر دل کی پرانی لگن کر کے ہی رہے گی فقیر ہمیں
دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیں
موت کو زیست ترستی ہے یہاں
رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاں
ردیف ی
نور سحر کہاں ہے اگر شام غم گئی
بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کی
ترے جلوے تیرے حجاب کو میری حیرتوں سے نمو ملی
تھی تو سہی پر آج سے پہلے ایسی حقیر فقیر نہ تھی
کی شب حشر مری شام جوانی تم نے
وہی اک پکار وہی فغاں مری مہر دیدہ و لب میں ہے
شوخ تھے رنگ ہر اک دور میں افسانوں کے
معنی
ذخیرۂ الفاظ
محفوظ کریں
نوٹ
تلاش
کاپی
شیئر
گوگل
ہاں
نہیں