غزل

ردیف الف

  1. پھر بہار آئی ہے پھر جوش میں سودا ہوگا

ردیف ن

  1. آخر دل کی پرانی لگن کر کے ہی رہے گی فقیر ہمیں
  2. دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیں
  3. موت کو زیست ترستی ہے یہاں
  4. رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاں

ردیف ی

  1. نور سحر کہاں ہے اگر شام غم گئی
  2. بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کی
  3. ترے جلوے تیرے حجاب کو میری حیرتوں سے نمو ملی
  4. تھی تو سہی پر آج سے پہلے ایسی حقیر فقیر نہ تھی
  5. کی شب حشر مری شام جوانی تم نے
  6. وہی اک پکار وہی فغاں مری مہر دیدہ و لب میں ہے
  7. شوخ تھے رنگ ہر اک دور میں افسانوں کے