غزل

ردیف الف

  1. خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا
  2. ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا
  3. دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کا
  4. بہار آئی ہے سوتے کو ٹک جگا دینا
  5. اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کا
  6. اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتا
  7. عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتا

ردیف ن

  1. دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیں

ردیف ی

  1. حیف دل میں ترے وفا نہ ہوئی
  2. اٹھ چکا دل مرا زمانے سے
  3. اس جور و جفا سے ترے زنہار نہ ٹوٹے
  4. ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے
  5. بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے
  6. عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہے
  7. عبث عبث تجھے مجھ سے حجاب آتا ہے