محمد دین تاثیر

۱۳۲۰ – ۱۳۷۸ ھ · ۱۹۰۲ – ۱۹۵۸ ء

محمد دین تاثیر (۲۸ فروری ۱۹۰۲ء - ۱ دسمبر ۱۹۵۰ء) ایک پاکستانی اردو شاعر، نقاد اور ماہر تعلیم تھے۔ قصبہ اجنالہ ضلع امرتسرمیں پیدا ہوئے۔ ۱۹۰۴ء میں پہلے والد پھر والدہ نے وبائے طاعون میں انتقال کا۔ میاں نظام الدین رئیسلاہور نے جو ان کے خالو تھے پرورش کی۔ فورمین کرسچن کالج لاہور سے ۱۹۲۶ء میں ایم اے کی ڈگری لی۔ اسی سال اسلامیہ کالج لاہور میں انگریزی کے لیکچرار مقرر ہوئے۔ کچھ عرصے بعد مستعفی ہو کر محکمہ اطلاعات سے وابستہ ہو گئے۔ ۱۹۲۸ء میں دوبارہ اسلامیہ کالج میں آ گئے۔ ۱۹۳۴ء میں انگلستان چلے گئے اور کیمبرج سے پی۔ ایچ۔ ڈی کیا۔ ۱۹۳۶ء میں ایم۔ اے او کالج امرتسر میں پرنسپل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم تک مختلف عہدوں پر کام کیا۔ ۱۹۴۷ء میں سری نگر گئے اور پھر پاکستان آکر آزاد کشمیر کے محکمہ نشر و اشاعت کے انچارچ ہو گئے۔ ۱۹۴۸ء میں اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے اور زندگی کے آخری ایام تکاسی کالج سے وابستہ رہے۔ ڈاکٹر تاثیر کی ادبی زندگی کا آغاز لڑکپن ہی میں ہو گیا تھا۔ کالج میں ان صلاحیتوں نے جلا پائی۔ اور ۱۹۲۴ء تک ادبی دنیا میں خاصے معروف ہو گئے۔ انھی دنوں ’’ نیرنگ خیال‘‘ لاہور کی ادارت ان کے سپرد ہوئی۔ دیگر ممتاز رسائل میں ان کی نقلیں اور مضامین شائع ہوتے تھے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانیوں میں سے تھے۔ انھوں نے روایت سے بغاوت کی اور مروجہ اسلوب سے ہٹ کر آزاد نظم کو ذریعۂ اظہار بنایا۔ وہ پاکستانی صوبہ پنجاب کے سابقہ مقتول گورنر سلمان تاثیر کے والد تھے۔ غازی علم دین شہید کے جسد مبارک کے لیے صندوق و بانس کا اہتمام ڈاکٹر محمد دین تاثیر نے کیا تھا۔

غزل۷نظم۶ای بکس