آب حیات ۔ مرزا فاخر مکین
جانؔ :
کہا طبیب نے احوال دیکھ کر میرا
کہ سخت جان ہے سودا کا آہ کیا کیجیئے
دیدؔ :
بتاں کا دید میں کرتا ہوں شیخ جسدن سے
حلال تب سے ہے مے موبمو مرے دل پر
میرؔ :
کریں شمار بہم دل کے یاد داغوں کا
تو آ کہ سیر کریں آج دل کے باغوں کا
میرؔ :
ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا
موسٰے نہیں جو سیر کروں کوہ طور کا
بسکہ پونچھوں ہوں میں اپنی چشم خوں آلود کو
جامہ کا ہر ایک تختہ سیر ہے گلزار کا
ہمارے آگے ترا جب کسی نے نام لیا
دلِ ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
(میر)
قسم جو کھائیے تو طالع زلیخا کی
عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
(میر)
چمن میں صبح جو اس جنگ جو کا نام لیا
صبا نے تیغ کا موجِ رواں سے کام لیا
(سودا)
کمال بندگی عشق ہے خداوندی
کہ ایک زن نے مہ مصر سا غلام لیا
(سودا)
گِلا میں جس سے کروں تیری بیوفائی کا
جہاں میں نام نہ لے پھر وہ آشنائی کا
(میر)
گلا لکھوں میں اگر تیری بے وفائی کا
لہو میں غرق سفینہ ہو آشنائی کا
(سودا)
دکھاؤں گا تجھے زاہد اس آفتِ دیں کو
خلل دماغ میں تیرے ہے پارسائی کا
(سودا)
چمن میں گل نے جو کل دعوئے جمال کیا
جمالِ یار نے منھ اس کا خوب لال کیا
(میر)
برابری کا تری گل نے جب خیال کیا
صبا نے مار طمانچہ منھ اس کا لال کیا
(سودا)
دل پہنچا ہلاکت کو بہت کھینچ کسا لا
لے یار مرے سلمہ اللہ تعالٰے
ایک محروم چلے میر ہمیں دُنیا سے
ورنہ عالم کو زمانے نے دیا کیا کیا کچھ
(میر)
سوداؔ جہاں میں آ کے کوئی کچھ نہ لے گیا
جاتا ہوں ایک میں دلِ پر آرزو لئے
(سوداؔ)
رات ساری تو کٹی سنتے پریشاں گوئی
میرؔ جی کوئی گھڑی تم بھی تو آرام کرو
(میرؔ)
سوداؔ تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی رات
اب آئی سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی
(سودا)
ہوتی نہیں ہے صبح نہ آتی ہے مجھ کو نیند
جس کو پکارتا ہوں وہ کہتا ہے مر کہیں
(سودا)
کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لئے
حُسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا
ہوا ہے جب کفر ثابت ہے وہ تمنوائے مسلمانی
نہ ٹوٹے شیخ سے زنار تسبیح سلیمانی
مت رنج کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد
دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا
کعبہ اگرچہ ٹوٹا تو کیا جائے غم ہے شیخ
یہ قصرِ دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا
نہ بُھول اے آرسی گر یار کو تجھ سے محبت ہے
نہیں ہے اعتبار اسکا یہ منھ دیکھے کی الفت ہے
بگولے سے جسے آسیب اور صرصر سے زحمت ہے
ہماری خاک یوں برباد ہوائے ابر رحمت ہے
غیر کے پاس یہ اپنا ہی گماں ہے کہ نہیں
جلوہ گر یاد مرا ورنہ کہاں ہے کہ نہیں
دل کے پرزوں کو بغل بیچ لئے پھرتا ہوں
کچھ علاج انکا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں
مہر ہر ذرہ میں مجھ کو ہی نظر آتا ہے
تم بھی ٹک دیکھو تو صاحب نظراں ہے کہ نہیں
جرم ہے اس کی جفا کا کہ وفا کی تقصیر
کوئی تو بولو میاں منھ میں زباں ہے کہ نہیں
پاس ناموس مجھے عشق کا ہے اے بلبل
ورنہ یاں کون سا انداز فغاں ہے کہ نہیں
آگے شمشیر تمھاری کے بھلا یہ گردن
مُو سے باریک تراے خوش کمراں ہے کہ نہیں
پوچھا سودا سے میں اک روز کہ اے آوارہ
تیرے رہنے کا معین بھی مکاں ہے کہ نہیں
یک بیک ہو کے برآشفتہ لگا وہ کہنے
کچھ تجھے عقل سے بہرہ بھی میاں ہے کہ نہیں
دیکھا میں قصر فریدوں کے اوپر اک شخص
حلقہ زن ہو کے پکارا کوئی یاں ہے کہ نہیں
سینہ میں ہوا نالہ و پہلو میں دل آتش
دھڑکے ہے پڑا دل کہ نہ ہو مشتعل آتش
اشک آتش و خوں آتش و ہرلختِ دل آتش
آتش پہ برستی ہے پڑی متسل آتش
یک لحظہ طرف ہو کے مرے دیدہ دل سے
نادم تو سمندر ہے سدا منفعل آتش
یاقوت نہیں ہے وہ ترے لعل سے اے شوخ
جا ڈوب موئی آگ میں ہو کر خجل آتش
داغ آج سے رکھتا نہیں ان سنگدلوں کا
مُدت سے ہوئی ہے مری چھاتی پہ سل آتش
دل عشق کے شعلہ سے جو بھڑکا تو رہا کیا
اے جان نکل جا کہ لگی متصل آتش
اے قطرہ مے لے اڑی سوداؔ کو جگہ سے
بارود کے تودے کو ہے بس ایک تل آتش
------------------------------------------------------------
دیں شیخ و برہمن نے کیا یار فراموش
یہ سبحہ فراموش وہ زنار فراموش
دیکھا جو حرم کو تو نہیں دیر کی وسعت
اس گھر کی فضا کر گیا معمار فراموش
بھولے نہ کبھی دل سے مرا مصرع جانکاہ
نالہ نہ کرے مرغ گرفتار فراموش
دل سے نہ گئی آہ ہوس سیر چمن کی
اور ہم نے کیا رخنہ دیوار فراموش
یا نالہ ہی کر منع تو، یا گر یہ کو ناصح
دو چیز نہ عاشق سے ہو یکبار فراموش
بُھولا پھروں ہوں آپ کو ایک عمر سے لیکن
تجھ کو نہ کیا دل سے میں زنہار فراموش
دل درد سے کس طرح مرا خالی ہو سوداؔ
وہ ناشنوا حرف میں گفتار فراموش
------------------------------------------------------------
جو گذری مجھے پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا
بلا کشان محبت پہ جو ہوا سو ہوا
مبادا ہو کوئی ظالم نرا گریباں گیر
مرے لہو کو تو دہن سے دھو ہوا سو ہوا
پہنچ چکا ہے سر زخم دل تلک یارو
کوئی سیُو کوئی مرہم کرد ہوا سو ہوا
کہے ہے سُن کے میری سرگذشت وہ بیرحم
یہ کون ذکر ہے جانے بھی دو ہوا سو ہوا
خدا کے واسطے آ درگذر گنہ سے مرے
نہ ہو گا پھر کبھو اے تندخو ہوا سو ہوا
یہ کون حال ہے احوال دل پہ اے آنکھو
نہ پھوٹ پھوٹ کے اتنا بہو ہوا سو ہوا
دیا اسے دل و دیں اب یہ جان ہے سوداؔ
پھر آگے دیکھئے جو ہو، سو ہو، ہوا سو ہوا
------------------------------------------------------------
ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں
کیونکر نہ چاک چاک گریبانِ دل کروں
دیکھوں جو تیری زلف کو میں دست شانے میں
زینت دلیل مفلسی ہے ٹک کماں کو دیکھ
نقش و نگار چھٹ نہیں کچھ اسکے خانے میں
اے مرغِ دل سمجھ کے تو چشم طمع کو کھول
تو نے سنا ہے دام جسے، ہے وہ دانے میں
چلے میں کھینچ کھینچ کیا قد کو جوں کماں
تیر مراد پر نہ بٹھایا نشانے میں
پایا ہر ایک بات میں اپنے میں یوں تجھے
معنی کو جس طرح سخن عاشقانے میں
دستِ گرہ کشا کو نہ تزئین کرے فلک
مہندی بندھی نہ دیکھی میں انگشت شانے میں
ہمسا تجھے تو ایک ہمیں تجھ سے ہیں کئی
جا دیکھ لے تو آپ کو آئینہ خانے میں
سوداؔ خدا کے واسطے کر قصہ مختصر
اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں
------------------------------------------------------------
افعی کو یہ طاقت ہے کہ اس سے بسر آوے
وہ زلف سیہ اپنی اگر لہر پر آوے
اصداف میں اس مہر کی پہچان اگر آوے
ہر ذرہ میں کچھ اور ہی جھمکا نظر آوے
مجھ چشم سے اب اشک نہیں آنیکا ناصح
آوے بھی غمِ دل سے تو لخت جگر آوے
پھرتا ہوں ترے واسطے میں دربدر اے یار
تجھ سے نہ ہوا یہ کہ کبھی میرے گھر آوے
گویا دل عاشق بھی ہے اک فیل سیہ مست
رُکتا نہیں روکے سے کسے کے جدھر آوے
کہہ کہہ کے دُکھ اپنا میں کیا مغز کو خالی
اتنا نہ ہوا سُن کے تری چشم بھر آوے
شیشہ نہ کہے راز مرے دل کا تو اے جام
سرگوشی سے اس کی نہ تری چشم بھر آوے
کیا ہو جو قفس تک مرے اب صحنِ چمن سے
وہ برگ لئے گل کے نسیم سحر آوے
سب کام نکلتے ہیں فلک تجھ سے و لیکن
میرے دل ناشاد کی امید بر آوے
جب پھونکتے ناقوس صنم خانہ دل شیخ
کعبہ کا ترے وجد میں دیوار و در آوے
نامے کا جواب آنا تو معلوم ہے اے کاش
قاصد کے بد و نیک کی مجھ تک خبر آوے
میں بھی ہوں ضعیف اسقدر اے مورکہ وہ آپ
گذرے مرے سر سے جو تیرے تا کمر آوے
سب سے کہے دیتا ہوں یہ کہہ دیں کہ پھر انا
بالیں پہ مرے شور قیام اگر آوے
دیتا ہے کوئی مرغ دل اس شوخ کو سوداؔ
کیا قہر کیا تو نے غضب تیرے پر آوے
اب لے تو گیا ہے پر اسے دیکھیو ناداں
پل میں نہ اڑاتا وہ اگر بال و پر آوے
خوبوں میں دلدہی کی روش کم بہت ہے یاں
خواہان جاں جو چاہو تو عالم بہت ہے یاں
غافل نہ رہ تو اہل تواضع کے حال سے
تیغ و کماں کی طرح خم و چم بہت ہے یاں
چشم ہوس اٹھا لے تماشے سے جوں حباب
نادیدنی کا دید بس اک دم بہت ہے یاں
خونِ جگر بآدم دلو زینہ ہے لگاؤ
صورت معاش خلق کی برہم بہت ہے یاں
آنکھوں میں دوں اس آئینہ رو کو جگہ ولے
ٹپکا کرے ہے بسکہ یہ گھر نم بہت ہے یاں
کہتا ہے حال ماضی و مستقبل ایک ایک
جامِ جہاں نما تو نہیں، جم بہت ہے یاں
دیکھا جو باغ دہر تو مانند صبح و گل
کم فرصتی ملاپ کی باہم بہت ہے یاں
آیا ہوں تازہ دیں بحرم شیخُنا مجھے
پوجن نماز سے بھی مقدم بہت ہے یاں
سودا کر اس سے دل کی تسلی کے واسطے
گوشہ سے چشم کے نگہ کم بہت ہے یاں
عداوت سے تمہاری کچھ اگر ہوسے تو میں جانوں
بھلا تم زہر دے دیکھو اثر ہووے تو میں جانوں
نہ اندیشہ کرو پیارے کہ شب ہے وصل کی تھوڑی
تم اپنی زلف کو کھولو سحر ہووے تو میں جانوں
ہمارے تم سے جو عہد وفا ہوں انکو تم جانو
مرے پیماں میں کچھ نوعِ دگر ہووے تو میں جانوں
ذرا تم مارِ کاکل کو مرے لب سے لگا دیکھو
ہزاروں سانپ کاٹیں پھر اثر ہووے تو میں جانوں
خوباں سے جو دل ملا کرے گا
ڈرتا ہوں یہی کہ کیا کرے گا
آوے بھی مسیحا مرے بالیں پہ تو کیا ہو
بیمار یہ ایسا تو نہیں جو کو شفا ہو
جور و جفا پہ یار کی دل مت نگاہ کر
اپنی طرف سے ہووے جہاں تک نباہ کر
خاک و خوں میں صورتیں کیا کیا نہ ملیاں دیکھیاں
اے فلک باتیں تری کوئی نہ بھلیاں دیکھیاں
آہ میں اپنی اثر ڈھونڈے ہے اے مجذوبؔ تو
بید مجنوں کی نہ شاخیں ہم نے پھلیاں دیکھیاں
بس اب تیرے تاثیر اے آہ دیکھی
نہ آیا وہ کافر بہت راہ دیکھی
خاموش جو اتنا ہوں مجھے گنگ نہ سمجھو
اک عرض تمنا ہے کہ آ لب پہ آڑی ہے
چاہوں مدد کسے سے نہ اغیار کے لئے
میں بھی تو یار! کم نہیں دو چار کے لئے
طوبےٰ تلے میں بیٹھ کے روؤں گا بار بار
جنت میں تیرے سایہ دیوار کے لئے
ہے درد سر ہی بلبل آزاد کی صفیر
موزوں ہے نالہ مرغِ گرفتار کے لئے
اے میر سمجھیو مت مجذوب کو اوروں سا
ہے وہ خلفِ سودا اور اہل ہنر بھی ہے
اشک آنکھ میں ہو عشق سے تا دلمیں غم رہے
یہ گھر ہے وہ خراب کہ آتش میں نم رہے
نکلے اگر قفس سے تو خاموش ہم صفیر
صیاد نے سنایا ترانہ تو ہم رہے