آب حیات ۔ تمہید شیخ امام بخش ناسخ کے حال کی
مشہور ہے گرچہ افترائے اعمام
پر کرتے نہیں غور خواص اور عوام
وارث ہونا دلیل فرزندی ہے
میراث نہ پا سکا کبھی کوئی غلام
کہتے رہے اعمام عداوت سے غلام
میراث پدر پائی مگر میں نے تمام
اس دعویٰ باطل سے ستمگاروں کو
حاصل یہ ہوا کر گئے مجھ کو بدنام
کی خدا نے جو یہ زبان عطا
ہے بلا شک عطیہ عظمٰے
اس سے ہے مختلف مزوں کی تمیز
اس سے پاتے ہیں لذّتِ ہر چیز
کوئی کڑوی ہے کوئی ہے میٹھی
کوئی نمکین، کوئی کھٹ مِٹھی
کوئی اچھی ہے کوئی زشت و زبوں
مزے سب چیزوں کے ہیں گونا گوں
سب مزوں سے زبان واقف ہے
نہیں اسرار کی یہ کاشف ہے
جو نہ ہو یہ تو کچھ نہ ہو معلوم
نہ ہو کوئی مزا کبھی مفہوم
اور بھی ہوتے ہیں زبان سے کام
ہے ممد وقت بلع آب و طعام
اس سے احکام بہر دنداں ہے
قوتِ تام بہر دنداں ہے
میری انکھوں نے تجھے دیکھ کے وہ کچھ دیکھا
کہ زبانِ مژہ پر شکوہ ہے بینائی کا
کھل گیا ہمپر عناصر جب ہوئے بے اعتدال
رابطہ واجب سے ممکن دوست دشمن میں نہیں
کی خدا نے کافروں پر اے صنم جنت حرام
درد کس کی آنکھ پڑتی تیرے ہوتے حُور پر
کوئے جاناں میں ہوں پر محروم ہوں دیدار سے
پائے خفتہ کندہ زن ہیں دیدہ بیدار پر
وہ آفتاب نہ ہو کس طرح سے لیے سایہ
ہوا نہ سر سے کبھی سایہ سحاب جُدا
بے خطر یوں ہاتھ دوڑاتا ہوں زلفِ یار پر
دوڑتا تھا جسطرح ثعبان موسٰے مار پر
تو وہ خورشید ہے اُلٹے جو گلستاں میں نقاب
چہرہ گل میں تلّون ہووہیں حِربا کا
برنگِ گل جگر ہوتا ہے ٹکڑے سیر گلشن میں
ہوا ہے تیغ غم بے یار نظارہ سپر غم کا
آگے مجھ کامل کے ناقص ہے کمالِ مدّعی
درمیاں ہے فرق اسّد راج اور اعجاز کا
مِل گیا ہے عشق کا آزار قسمت سے مجھے
ہوں جو عیسٰی بھی ارادہ ہو نہ استعلاج کا
انڈا کھٹک کے نکلی ہے باہر تو کیا ہوا
بلبل کو جسم بیضئہ فولاد ہو گیا
ناسخؔ تمام رجس تناسخ سے پاک ہے
وہ شمع ہو گیا تو وہ پروانہ ہو گیا
قمر ہی کیا ترے آگے محاق میں آیا
کہ آفتاب ھی تو احتراق میں آیا
سوئے کعبہ تیرے عاشق سجدہ کرتے ہیں کوئی
تیرے ابرو کی طرف قبلہ محّول ہو گیا
باعثِ کریہ ہوئی فرقت میں مجھ کو مے کشی
ساقیا اشکوں سے مے کا استحالہ ہو گیا
بڑا اکال ہے ناسخؔ غمِ عالم فراہم کر
ارادہ ہے اگر اے چرخ اس کی مہمانی کا
نہ باطل خشک زاہد ہے نہ عاطل رند تر دامن
خدا نے اپنی حکمت سے کیا ہے خشک و تر پیدا
کسی حالت میں مجھے ہوش سے کچھ کام نہیں
چڑھ گئے انجرے نشہ کے جو سودا ترا
آغازِ خط میں اژدر فرعون ہے جو زلف
افسونِ خطِ مار ہی افسانہ ہو گیا
غیر کوثر کسی دریا کا میں سیّاح نہیں
بیشئہ شیر خدا بن کہیں سیّاح نہیں
ہے ہوس ہم سے ملے یار کرے غیر کو ترک
مطلب اپنا وہ ہے جو قابل انجاح نہیں
ظلم طولِ شب فرقت کے تطاول نے کہا
دادرس کوئی بجز خالق الاصباح نہیں
روشنائی سے ہوئی روشنیِ خلوتِ فکر
جزم قلم اور مری بزم میں مصباح نہیں
بال توڑے تری زلفوں کے نہ بیدردی سے
حس مرے ہاتھ کی مانند ہوگر شانہ میں
ناک رگڑے ہر گھڑی کیونکر نہ اسکے سامنے
بدلے نتھنی کے سلیماں کی ہے خاتم ناک میں
رنگ لالہ میں اگر ہے تو نہیں نام کو بُو
یاسمن میں ترے پنڈے سی ہے بو رنگ نہیں
ساقی بغیر مے یہ لہو تھوکتا نہیں
منھ سے شراب وصل نکلتی ہے ہجر میں
کیا ہی حسد ہے فلک جس نے کہ نوبت پائی
دم میں مانندِ ھباب اس نے نقارہ توڑا
تو بھی اغوشِ تصّور سے جدا ہوتا نہیں
اے صنم جس طرح دُور اک دم خدا ہوتا نہیں
بحر وحدت میں ہوں میں، گو سر گیا مثلِ حباب
چوب کیا تلوار سے پانی جدا ہوتا نہیں
نشہ عرفاں نہیں جبتک دلاہے قیل و قال
تا نہ ہو لبریز ساغر بے صدا ہوتا نہیں
اسرار نہاں آتے ہیں سینہ سے زباں پر
اب سدِّ سکندر کروں تعمیر گلے میں
ہے یہ وہ راہ کہ تا عرش پہنچتا ہے بشر
دل میں دروازہ ہے اس گنبدِ مینائی کا
عارفوں کو ہر در و دیوار ادب آموز ہے
مانع گردن کشی ہے انحنا محراب کا
مظہر وہ بُت ہے نور خدا کے ظہور کا
نقشِ قدم سے سنگ کو رُتبہ ہے در کا
مسی آلودہ لب پر رنگِ پاں ہے
تماشا ہے تہِ آتش دھواں ہے
مسی آلودہ برلب رنگ پان است
تماشا کن تہِ آتش دخاں است
(بیدلؔ)
ناتوانی سے گراں سُرمہ ہے چشم یار کو
جسطرح ہو رات بھاری مردمِ بیمار کو
(شیخ صاحب)
گویند کہ شب بر سر بیمار گراں است
گر سرمہ بچشم تو گراں است ازاں است
(ناصر علی)
سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے
کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا ہوتا ہے انساں سے
کسی اُستاد کا شعر فارسی میں ہے۔
بروز بیکسی کس نیست غیر از سایہ یار من
مگر آنہم ندارد طاقتِ شبہائے تارِ من
فرق ہے شاہ و گدا میں قول شاعر سے یہی
شیرِ قالیں اور ہے شیر نیستاں اور ہے
(ناسخؔ)
بوریا جائے من دجائے تونگر قالیں
شیر قالیں دگر و شیر نیستاں دگر است
(حزیں)
حرص سے زاہد یہ کہتا ہے جو گر جائیں گے دانت
کیا کشادہ بہر رزق اپنا وہاں ہو جائے گا
دیکھیو ناسخؔ سر شیخ معمر کی طرف
کیا کلس مسواک کا ہے گنبدِ دستار کا
سوداؔ کی غزل ہے، جرس ہوسے اگر ہوسے – قفس ہووے اگر ہووے
اُس کا شعر دیکھو کہ وہ اسی بات کو کس چوچلے سے کہتا ہے۔
نہیں شایان زیب گنبدِ دستار کچھ زاہد
مگر مسواک ہی اسپر کلس ہوسے اگر ہووے
(سوداؔ)
زاہد ابکی رمضان میں میں پڑھوں خاک نماز
سوئے قبلہ توخنا زیر کھڑے رہتے ہیں
(ناسخؔ)
واہ کیا پیر مغاں کا ہے تصرف مے کشو
محتسب کا اب سخن تکیہ ہے مُل مل ہو گیا
عابد و زاہد چلے جاتے ہیں پیتا ہے شراب
اب تو ناسخؔ زور رندلا اُبالی ہو گیا
اہل تزوید سے اس درجہ ہے نفرت مجھ کو
کہ مجھے قافیہ زور ہے کچھ کام نہیں
شہسواری کا جو اس چاند کے ٹکڑے کو ہے شوق
چاندنی نام ہے شبدیز کی اندھیاری کا
اےخط اس کےگورے گالوں پر یہ تو نے کیا کیا
چاندنی راتیں یکایک ہو گئیں اندھیاں ریاں
اللہ رے روشنی مرے سینہ کے داغ کی
اندھیاری رات میں نہیں حاجت چراغ کی
نام سنتا ہوں جو میں گور کی اندھیاری کا
دل دھڑکتا ہے جدائی کی شبِ تار نہ ہو
پہ|اور|پر||پر کو وجوباً اختیار کیا|
رکھا||رکھا|میں|رکھا|ایضاً
تلک|اور|تک|میں|تک|"
بٹھانا||پنھانا|میں|بیٹھانا - پہنانا|"
کبھو|اور|کبھی|میں|کبھی|"
ایجاد اور کلام||مذکّر||(بعض مؤنث کہتے ہیں) |"
طرز||مؤنث||مذکّر بولتے ہیں|
صُلح ہو گئی||||صلح ہو گئی|
پونچھتا اشک اگر گوشہ داماں ہوتا
چاک کرتا میں جنوں میں جو گریباں ہوتا
مال ملتا جو فلک سے ضرر جاں ہوتا
سر نہ ہوتا جو میسّر مجھے ساماں ہوتا
منھ کو دامن سے چھپا کر جو وہ رقصاں ہوتا
شعلہ حُسن چراغِ تہِ داماں ہوتا
اپنے ہونٹوں سے جو اک بار لگا لتا وہ
ہے یقیں ساغرِ مے چشمہ حیواں ہوتا
اُسترا منھ پہ جو پھرنے نہیں دیتا ہے بجا
محو دیں دار سے کیونکر خط قراں ہوتا
نازک ایسا ہے وہ کافر وہیں ہوتا بدمست
گذر اس کا جو کبھی زیر مغیلاں ہوتا
سنگِ چقماق بھی بنتا تو مرا ضبط یہ ہے
نہ مری قبر کا پتّھر شرر افشاں ہوتا
ہوں وہ وحشی کہ اگر دشت میں پھرتا شب کو
آگے مشعلچی وہی غول بیاباں ہوتا
نگہتِ کاکلِ پیچاں سے جو دیتے تشبیہ
عطر مجموعے کا ہر جزو پریشاں ہوتا
کی مکافاتِ شب وصل خدا نے ورنہ
کس لئے مجھ پر عذابِ شب ہجراں ہوتا
اپنی صورت کا وہ دیوانہ نہ ہوتا تو کیوں
پاؤں میں سلسلہ گیسوئے پیچاں ہوتا
ایک دم یار کو بوسوں سے نہ ملتی فرصت
گر دہن دیدہ عالم سے نہ پنہاں ہوتا
کیسی پریاں؟ شہِ جنات کو بھی آٹھ پہر
ہے یہ حسرت کہ سگِ کوچہ جاناں ہوتا
خوں رُلاتا وہیں ناسور بنا کر گردوں
زخم بھی گر مرے تن پر کبھی خنداں ہوتا
اب اجل ایک دن آخر تجھے آنا ہے ولے
آج آتی شب فرقت میں تو احساں ہوتا
کون ہے جو نہیں مرتا ہے تری قامت پر
کیوں نہ ہر سروِ چمن قالب بیجاں ہوتا
کیا قوی ہے یہ دلیل اس کی پریزادی کی
ربف انسان سے کرتا جو وہ انساں ہوتا
اے بتو! ہوتی اگر مہر و محبت تم میں
کوئی کافر بھی نہ واللہ مسلماں ہوتا
حسرتِ دل نہیں دیتا ہے نکلنے ناسخؔ
ہاتھ شل ہوتے میسّر جو گریباں ہوتا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دم بلبل اسیر کا تن سے نکل گیا
جھونکا نسیم کا جو ہیں سَن سے نِکل گیا
لایا وہ ساتھ غیر کو میرے جنازہ پر
شعلہ سا ایک جیبِ کفن سے نکل گیا
ساقی بغیر شب جو پیا آب آتشیں
شعلہ وہ بن کے میرے دہن سے نکل گیا
اب کی بہار میں یہ ہوا جوش اے جنوں
سارا لہو ہمارے بدن سے نکل گیا
اس رشکِ گل کے جاتے ہی بس آ گئی خزاں
ہر گل بھی ساتھ بو کے چمن سے نکل گیا
اہلِ زمیں نے کیا سِتم نو کیا کوئ؟
نالہ جو آسمانِ کہن سے نکل گیا
سنسان مثل وادی غربت ہے لکھنؤ
شاید کہ ناسخؔ آج وطن سے نکل گیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
واعظا مسجد سے اب جاتے ہیں میخانے کو ہم
پھینک کر ظرفِ وضو لیتے ہیں پیمانے کو ہم
کیا مگس بیٹھے بھلا اس شعلہ رُو کے جسم پر
اپنے داغوں سے جلا دیتے ہیں پروانے کو ہم
تیرے آگے کہتے ہیں گل کھولکر بازوئے برگ
گلشنِ عالم سے ہیں تیار اڑ جانے کو ہم
کون کرتا ہے بتوں کے آگے سجدہ زاہدا
سر کو دے دے مار کر توڑینگے بتخانے کو ہم
جب غزالوں کی نظر آ جاتی ہیں چشم سیاہ
دشت میں کرتے ہیں یاد اپنے سیہ خانے کو ہم
بوسہ خال زنخداں سے شفا ہو گی ہمیں
کیا کریں گے اے طبیب اس تیرے بہلانے کو ہم
باندھتے ہیں اپنے دلمیں زلفِ جاناں کا خیال
اس طرح زنجیر پہناتے ہیں دیوانے کو ہم
پنجہ وحشت سے ہوتا ہے گریباں تار تار
دیکھتے ہیں کاکلِ جاناں میں جب شانے کو ہم
عقل کھو دی تھی جو اے ناسخؔ جنونِ عشق نے
آشنا سمجھا کئے اک عمر بیگانے کو ہم
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
چوٹ دل کو جو لگے آہِ رسا پیدا ہو
صدمہ شیشہ کو جو پہونچے تو صدا پیدا ہو
کشتہ تیغ جدائی ہوں یقیں ہے مجھ کو
عضو سے عضو قیامت بھی جدا پیدا ہو
ہم ہیں بیمارِ محبت یہ دُعا مانگتے ہیں
مثل اکسیر نہ دُنیا میں دوا پیدا ہو
کہہ رہا ہے جرسِ قلب بآوازِ بلند
گم ہو رہبر تو ابھی راہِ خدا پیدا ہو
کس کو پہنچا نہیں اے جان ترا فیضِ قدم
سنگ پر کیوں نہ نشانِ کفِ پا پیدا ہو
مل گیا خاک میں پس پس کے حسینوں پر میں
قبر پر بوئیں کوئی چیز حنا پیدا ہو
اشک تھم جائیں جو فرقت میں تو آہیں نکلیں
خشک ہو جائے جو پانی تو ہوا پیدا ہو
یاں کچھ اسباب کے ہم بندے ہی محتاج نہیں
نہ زباں ہو تو کہاں نامِ خدا پیدا ہو
گل تجھے دیکھ کے گلشن میں کہیں عمر دراز
شاخ کے بدلے وہیں دست دعا پیدا ہو
بوسہ مانگا جو دہن کا تو وہ کیا کہنے لگے
تو بھی مانند دہن اب کہیں نا پیدا ہو
نہ سرِ زلف ہلاہل بے درازی تیری
رشتہ طول اہل کا بھی سرا پیدا ہو
کس طرح سچ ہے نہ خورشید کو رجعت ہو جائے
تجھ سا آفاق میں جب ماہِ لقا پیدا ہو
کیا مبارک ہے مرا دشتِ جنوں اے ناسخؔ
بیضہ بوم بھی ٹوٹے تو ہما پیدا ہو
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جو اس پری سے شبِ وصل میں رکاوت ہو
مجھے بھی ایک جنارہ ہو یا چھپر کھٹ ہو
محالِ خواب لحد سے ہے گرچہ بیداری
میں چونک اٹھوں اگر اسکے قدم کی آہٹ ہو
نہ میرے پاؤں ہوں زنجیر کے کبھی شاکی
جو اُسکے کاکلِ پیچاں کی ہاتھ میں لٹ ہو
کبود رنگ ہے مسّی کا تیرے ہونٹھ ہیں لال
ملیں جو دونوں تو پیدا نہ کیوں اُداہٹ ہو
مجال کیا کہ ترے گھر میں پاؤں میں رکھوں
یہ آرزو ہے مرا سر ہو تیری چوکھٹ ہو
ہجوم رکھتے ہیں جانبازیاں ترے آگے
جواریوں کا دوالی کو جیسے جمگھٹ ہو
لپٹ کے یار سے سوتا ہوں مانگتا ہوں دُعا
تمام عمر بسر یارب ایک کروٹ ہو
نسیم آہ کے جھوکے سے کھول دوں دم میں
بھڑا ہوا ترے دروازے کا اگر پٹ ہو
جلاؤ غیروں کو مجھ سے جو گرمیاں کرتے
تمہارے کوچے میں تیار ایک مرگھٹ ہو
نہ لگ چلوں میں یہی اپنے دلمیں ٹھانی ہے
تِری طرف سے ہزار اے پری لگاوٹ ہو
وہ منھ چھپاتے ہیں جبتک حجاب سے شبِ وصل
عذارِ صبح سے شب کا نہ دور گھونگھٹ ہو
تری بلائیں مری طرح وہ بھی لیتا ہے
نہ کیونکر آگ میں اسپند کی یہ چٹ پٹ ہو
میں جاں بلب ہوں گلا کاٹو یا گلے سے لگو
جو اس میں آپ کو منظور ہو سو جھٹ پٹ ہو
کرے وہ ذکرِ خدا اے صنم بھلا کس وقت
جسے کہ آٹھ پہر تیرے نام کی رٹ ہو
جو دل کو دیتے ہو ناسخؔ تو کچھ سمجھ کر دو
کہیں یہ مفت میں دیکھو نہ مال تلپٹ ہو
خاک میں مل جائیے ایسا اکھاڑہ چاہیے
لڑکے کُشتی دیو ہستی کو پچھاڑا چاہیے
وہ سہی قد کر کے ورزش خوب زوروں پر چڑھا
کہہ رہا ہے سرو کو جڑ سے اکھاڑا چاہیے
کیوں نہ روئیں پھوٹ کر ہم قصر جاناں کے تلے
دیدہ تر اپنے دریا میں کڑاڑا چاہیے
اور تختوں کی ہماری قبر میں حاجت نہیں
خانہ محبوب کا کوئی کواڑا چاہیے
(دلّی والے کواڑ کہتے ہیں)
ہے شبِ مہتاب فرقت میں تقاضائے جنوں
چادرِ محبوب کو بھی آج پھاڑا چاہیے
انتہائے لاغری سے جب نظر آیا نہ میں
ہنس کے وہ کہنے لگے بستر کو جھاڑا چاہیے
کر چکی ہے تیری رفتار ایک عالم کو خراب
شہرِ خاموشاں کو بھی چل کر اُجاڑا چاہیے
منھ بنائے کیوں ہے قاتل پاس ہے تیغ نگاہ
باغ میں ہنستے ہیں گل تو منھ بگاڑا چاہیے
کوئی سیدھی بات صاحب کی نظر آتی نہیں
آپ کی پوشاک کو کپڑا بھی آڑا چاہیے
تنگ اس وحشت کدہ میں ہوں میں اے جوشِ جنوں
عرش کی سقف محّدب کو لتاڑا چاہیے
آنسوؤں سے ہجر میں برسات رکھیے سال بھر
ہم کو گرمی چاہیے ہرگز نہ جاڑا چاہیے
آج اس محبوب کے دل کو مسخّر کیجیے
عرشِ اعظم پر نشاں نالے کا گاڑا چاہیے
مر گیا ہوں حسرتِ نظارہ ابرو میں مَیں
عین کعبہ میں مرے لاشے کو گاڑا چاہیے
محتسب کو ہو گیا آسیب جو توڑا ہے خم
جوتیوں سے مے کشو جن آج جھاڑا چاہیے
جلد رنگ اے دیدہ خونبار اب تاز نِگاہ
ہے محّرم اس پری پیکر کو ناڑا چاہیے
لڑتے ہیں پریوں سے کشتی پہلوانِ عشق میں
ہم کو ناسخؔ راکپ اندر کا اکھاڑا چاہیے