غزل
ردیف الف
- ذرا غم زدوں کے بھی غم خوار رہنا
- یاد تیری یاد ہے نام خدا
- وہیں سے جب کہ اشارہ ہو خود نمائی کا
- تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
- سنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیا
- رسوا ہوئے بغیر نہ ناز بتاں اٹھا
- نتیجہ کیوں کر اچھا ہو نہ ہو جب تک عمل اچھا
- کام اگر حسب مدعا نہ ہوا
- جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتا
- ہے بے لب و زباں بھی غل تیرے نام کا
- آغاز عشق عمر کا انجام ہو گیا
ردیف ب
ردیف ر
ردیف ض
ردیف م
ردیف ن
- ظاہر تو ہے تو میں نہاں ہوں
- وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میں
- سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں
- منزل دراز و دور ہے اور ہم میں دم نہیں
- کبھی تقصیر جس نے کی ہی نہیں
- جہاں تیغ ہمت علم دیکھتے ہیں
- اتنا تو جانتے ہیں کہ بندے خدا کے ہیں
- حامد کہاں کہ دوڑ کے جاؤں خبر کو میں
- بزم ایجاد میں بے پردہ کوئی ساز نہیں
- عارض روشن پہ جب زلفیں پریشاں ہو گئیں
- آخر یہ حسن چھپ نہ سکے گا نقاب میں
ردیف و
- وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
- پائے غیر اور میرا سر دیکھو
- ہے جان حزیں ایک لب روح فزا دو
ردیف ی
- شب زندگانی سحر ہو گئی
- روش سادہ بیانی میری
- راہ و رسم خط کتابت ہی سہی
- کس لئے پروانہ خاکستر ہوا
- ہے وصف ترا محیط اعظم
- واں زیرکی پسند نہ ادراک چاہئے
- وہی سائل وہی مسؤل وہی حاجت مند
- الٹی ہر ایک رسم جہان شعور ہے
- تبلیغ پیام ہو گئی ہے
- نکلے چلے آتے ہیں تہ خاک سے کھانے
- نکہت طرۂ مشکیں جو صبا لائی ہے
- مہربانی بھی ہے عتاب بھی ہے
- میں اگر وہ ہوں جو ہونا چاہئے
- کیا یہی ہے جس پہ ہم دیتے ہیں جاں
- کجا ہستی بتا دے تو کہاں ہے
- کوئی دن کا آب و دانہ اور ہے
- غیر توکل نہیں چارا مجھے
- گر نشے میں کوئی بے فکر و تامل باندھے
- عیش کے جلسے ہجوم آلام کے