غزل

ردیف الف

  1. ذرا غم زدوں کے بھی غم خوار رہنا
  2. یاد تیری یاد ہے نام خدا
  3. وہیں سے جب کہ اشارہ ہو خود نمائی کا
  4. تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
  5. سنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیا
  6. رسوا ہوئے بغیر نہ ناز بتاں اٹھا
  7. نتیجہ کیوں کر اچھا ہو نہ ہو جب تک عمل اچھا
  8. کام اگر حسب مدعا نہ ہوا
  9. جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتا
  10. ہے بے لب و زباں بھی غل تیرے نام کا
  11. آغاز عشق عمر کا انجام ہو گیا

ردیف ب

  1. کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شب

ردیف ر

  1. ابر بادل ہے اور سحاب گھٹا

ردیف ض

  1. نہیں معلوم کیا واجب ہے کیا فرض

ردیف م

  1. ساقی خم خانہ تھا جو صبح و شام

ردیف ن

  1. ظاہر تو ہے تو میں نہاں ہوں
  2. وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میں
  3. سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں
  4. منزل دراز و دور ہے اور ہم میں دم نہیں
  5. کبھی تقصیر جس نے کی ہی نہیں
  6. جہاں تیغ ہمت علم دیکھتے ہیں
  7. اتنا تو جانتے ہیں کہ بندے خدا کے ہیں
  8. حامد کہاں کہ دوڑ کے جاؤں خبر کو میں
  9. بزم ایجاد میں بے پردہ کوئی ساز نہیں
  10. عارض روشن پہ جب زلفیں پریشاں ہو گئیں
  11. آخر یہ حسن چھپ نہ سکے گا نقاب میں

ردیف و

  1. وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
  2. پائے غیر اور میرا سر دیکھو
  3. ہے جان حزیں ایک لب روح فزا دو

ردیف ی

  1. شب زندگانی سحر ہو گئی
  2. روش سادہ بیانی میری
  3. راہ و رسم خط کتابت ہی سہی
  4. کس لئے پروانہ خاکستر ہوا
  5. ہے وصف ترا محیط اعظم
  6. واں زیرکی پسند نہ ادراک چاہئے
  7. وہی سائل وہی مسؤل وہی حاجت مند
  8. الٹی ہر ایک رسم جہان شعور ہے
  9. تبلیغ پیام ہو گئی ہے
  10. نکلے چلے آتے ہیں تہ خاک سے کھانے
  11. نکہت طرۂ مشکیں جو صبا لائی ہے
  12. مہربانی بھی ہے عتاب بھی ہے
  13. میں اگر وہ ہوں جو ہونا چاہئے
  14. کیا یہی ہے جس پہ ہم دیتے ہیں جاں
  15. کجا ہستی بتا دے تو کہاں ہے
  16. کوئی دن کا آب و دانہ اور ہے
  17. غیر توکل نہیں چارا مجھے
  18. گر نشے میں کوئی بے فکر و تامل باندھے
  19. عیش کے جلسے ہجوم آلام کے