دنیا سے ذوقؔ رشتۂ الفت کو توڑ دے
دنیا سے ذوقؔ رشتۂ الفت کو توڑ دے
جس سر کا ہے یہ بال اسی سر میں جوڑ دے
پر ذوقؔ تو نہ چھوڑے گا اس پیر زال کو
یہ پیر زال گر تجھے چاہے تو چھوڑ دے
دنیا سے ذوقؔ رشتۂ الفت کو توڑ دے
جس سر کا ہے یہ بال اسی سر میں جوڑ دے
پر ذوقؔ تو نہ چھوڑے گا اس پیر زال کو
یہ پیر زال گر تجھے چاہے تو چھوڑ دے
ماخذ: ویکی ماخذ · محمد ابراہیم ذوق