غزل

ردیف الف

  1. وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتا
  2. نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں مارا
  3. نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتا
  4. نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتا
  5. مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا
  6. محفل میں شور قلقل مینائے مل ہوا
  7. کسی بیکس کو اے بیداد گر مارا تو کیا مارا
  8. جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
  9. ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا
  10. دریائے اشک چشم سے جس آن بہہ گیا
  11. آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا

ردیف د

  1. کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعد

ردیف ر

  1. کل گئے تھے تم جسے بیمار ہجراں چھوڑ کر
  2. جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کر
  3. بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر

ردیف ن

  1. وقت پیری شباب کی باتیں
  2. تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں
  3. قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیں
  4. ہیں دہن غنچوں کے وا کیا جانے کیا کہنے کو ہیں
  5. گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں
  6. گئیں یاروں سے وہ اگلی ملاقاتوں کی سب رسمیں
  7. دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں
  8. بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں

ردیف و

  1. رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
  2. ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو
  3. عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو

ردیف ھ

  1. اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ

ردیف ی

  1. نگہ کا وار تھا دل پر پھڑکنے جان لگی
  2. بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی
  3. برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئی
  4. آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی
  5. زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سے
  6. یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے
  7. اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہے
  8. سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے
  9. قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئے
  10. نہیں ثبات بلندی عز و شاں کے لیے
  11. نہ کھینچو عاشق تشنہ جگر کے تیر پہلو سے
  12. مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
  13. مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
  14. مار کر تیر جو وہ دلبر جانی مانگے
  15. لیتے ہی دل جو عاشق دل سوز کا چلے
  16. لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
  17. کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے
  18. کوئی کمر کو تری کچھ جو ہو کمر تو کہے
  19. کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے
  20. خوب روکا شکایتوں سے مجھے
  21. خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے
  22. کون وقت اے وائے گزرا جی کو گھبراتے ہوئے
  23. کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے
  24. کب حق پرست زاہد جنت پرست ہے
  25. جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے
  26. ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہے
  27. ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے
  28. اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہے
  29. دل بچے کیونکر بتوں کی چشم شوخ و شنگ سے
  30. دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے
  31. چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
  32. چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے
  33. باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہے
  34. اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
  35. آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے