غزل
ردیف الف
- وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتا
- نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں مارا
- نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتا
- نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتا
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا
- محفل میں شور قلقل مینائے مل ہوا
- کسی بیکس کو اے بیداد گر مارا تو کیا مارا
- جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا
- دریائے اشک چشم سے جس آن بہہ گیا
- آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا
ردیف د
ردیف ر
- کل گئے تھے تم جسے بیمار ہجراں چھوڑ کر
- جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کر
- بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر
ردیف ن
- وقت پیری شباب کی باتیں
- تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں
- قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیں
- ہیں دہن غنچوں کے وا کیا جانے کیا کہنے کو ہیں
- گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں
- گئیں یاروں سے وہ اگلی ملاقاتوں کی سب رسمیں
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں
- بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں
ردیف و
- رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
- ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو
- عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو
ردیف ھ
ردیف ی
- نگہ کا وار تھا دل پر پھڑکنے جان لگی
- بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی
- برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئی
- آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی
- زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سے
- یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے
- اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہے
- سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے
- قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئے
- نہیں ثبات بلندی عز و شاں کے لیے
- نہ کھینچو عاشق تشنہ جگر کے تیر پہلو سے
- مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
- مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
- مار کر تیر جو وہ دلبر جانی مانگے
- لیتے ہی دل جو عاشق دل سوز کا چلے
- لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
- کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے
- کوئی کمر کو تری کچھ جو ہو کمر تو کہے
- کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے
- خوب روکا شکایتوں سے مجھے
- خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے
- کون وقت اے وائے گزرا جی کو گھبراتے ہوئے
- کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے
- کب حق پرست زاہد جنت پرست ہے
- جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے
- ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہے
- ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے
- اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہے
- دل بچے کیونکر بتوں کی چشم شوخ و شنگ سے
- دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے
- چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے
- باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہے
- اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
- آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے