غزل

ردیف الف

  1. عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا
  2. رہے نو روز عشرت آفریں جوش بہار افزا

ردیف ب

  1. دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوب
  2. ساقی ہے گرچہ بے شمار شراب
  3. نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب

ردیف ج

  1. دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آج

ردیف خ

  1. ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخ

ردیف د

  1. گرچہ گل کی سیج ہو تس پر بھی اڑ جاتی ہے نیند

ردیف ض

  1. رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیض

ردیف ظ

  1. رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظ

ردیف و

  1. تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو

ردیف ی

  1. گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے
  2. بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہے