غزل

ردیف الف

  1. ماتم دید ہے دیدار کا خواہاں ہونا
  2. ہے خموشیٔ انتظار بلا
  3. نہ رہا شکوۂ جفا نہ رہا
  4. خود دیکھ خودی کو او خود آرا

ردیف ب

  1. پی بھی اے مایۂ شباب شراب

ردیف ت

  1. کہیے کیا اور فیصلے کی بات

ردیف ٹ

  1. خط زمیں پر نہ اے فسوں گر کاٹ

ردیف ڑ

  1. رشتۂ رسم محبت مت توڑ

ردیف ع

  1. دیدۂ صرف انتظار ہے شمع
  2. چل دیے ہم اے غم عالم وداع

ردیف غ

  1. ان سے کہا کہ صدق محبت مگر دروغ

ردیف ق

  1. ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق
  2. تجھے کل ہی سے نہیں بے کلی نہ کچھ آج ہی سے رہا قلق
  3. ہو جدا اے چارہ گر ہے مجھ کو آزار فراق

ردیف ک

  1. نہ پہنچے ہاتھ جس کا ضعف سے تا زیست دامن تک
  2. اے ستم آزما جفا کب تک

ردیف ل

  1. کس قدر دل ربا نما ہے دل

ردیف م

  1. کیا آ کے جہاں میں کر گئے ہم
  2. آپ کے محرم اسرار تھے اغیار کہ ہم
  3. اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہم
  4. نقش بر آب نام ہے سیل فنا مقام

ردیف ن

  1. آئے کیا تیرا تصور دھیان میں
  2. ہم تو یاں مرتے ہیں واں اس کو خبر کچھ بھی نہیں
  3. تیرے در پر مقام رکھتے ہیں
  4. تیرے وعدے کا اختتام نہیں
  5. غیر شایان رسم و راہ نہیں
  6. خوشی میں بھی نواسنج فغاں ہوں
  7. اڑاؤں نہ کیوں تار تار گریباں
  8. اٹھنے میں درد متصل ہوں میں
  9. بیگانہ ادائی ہے ستم جور و ستم میں

ردیف و

  1. تھک تھک گئے ہیں عاشق درماندۂ فغاں ہو

ردیف ی

  1. دوستی اس کی دشمنی ہی سہی
  2. زندگی مرگ کی مہلت ہی سہی
  3. دوری میں کیوں کہ ہو نہ تمنا حضور کی
  4. کوئی کیسا ہی ثابت ہو طبیعت آ ہی جاتی ہے
  5. نہ ہو آرزو کچھ یہی آرزو ہے
  6. راز دل دوست کو سنا بیٹھے
  7. کیا کہیں تجھ سے ہم وفا کیا ہے
  8. دل کے ہر جزو میں جدائی ہے
  9. جو دل بر کی محبت دل سے بدلے
  10. وہی وعدہ ہے وہی آرزو وہی اپنی عمر تمام ہے