غزل
ردیف الف
- ماتم دید ہے دیدار کا خواہاں ہونا
- ہے خموشیٔ انتظار بلا
- نہ رہا شکوۂ جفا نہ رہا
- خود دیکھ خودی کو او خود آرا
ردیف ب
ردیف ت
ردیف ٹ
ردیف ڑ
ردیف ع
ردیف غ
ردیف ق
- ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق
- تجھے کل ہی سے نہیں بے کلی نہ کچھ آج ہی سے رہا قلق
- ہو جدا اے چارہ گر ہے مجھ کو آزار فراق
ردیف ک
ردیف ل
ردیف م
- کیا آ کے جہاں میں کر گئے ہم
- آپ کے محرم اسرار تھے اغیار کہ ہم
- اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہم
- نقش بر آب نام ہے سیل فنا مقام
ردیف ن
- آئے کیا تیرا تصور دھیان میں
- ہم تو یاں مرتے ہیں واں اس کو خبر کچھ بھی نہیں
- تیرے در پر مقام رکھتے ہیں
- تیرے وعدے کا اختتام نہیں
- غیر شایان رسم و راہ نہیں
- خوشی میں بھی نواسنج فغاں ہوں
- اڑاؤں نہ کیوں تار تار گریباں
- اٹھنے میں درد متصل ہوں میں
- بیگانہ ادائی ہے ستم جور و ستم میں