غزل
ردیف الف
- ہزار وعدے کیے ہیں تم نے کبھی کسی کو وفا نہ کرنا
- چاک جگر و دل کا جب شکوہ بجا ہوتا
- بھول کر بھی ادھر نہیں آتا
- جس قدر ضبط کیا اور بھی رونا آیا
- دل محبت مکان ہے گویا
- یہ کیا لطف شور فغاں رہ گیا
- گرہ لب پہ جو مدعا ہو گیا
- خیال گزرے کہاں کہاں کا ارادہ ان کو ہو گر یہیں کا
- انسان ہوس پیشہ سے کیا ہو نہیں سکتا
- لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کا
ردیف ب
ردیف پ
ردیف ر
ردیف ز
ردیف س
ردیف ض
ردیف م
ردیف ن
ردیف ھ
ردیف ی
- انتہا صبر آزمائی کی
- مجھ پر ایسی جفا کی کثرت کی
- جو بھر لیں ایک چٹکی صاحب تاثیر مٹی کی
- اب تو لب سے نہ جائے گا آگے
- مضطرب ہوں اب یہ جی کی بات ہے
- ہاتھ میں لے کے نہ خنجر بیٹھیے
- اٹھے آج ان سے فیصلہ کر کے
- رکھو وہ شیوہ نہ مد نظر نظر میں رہے
- وہ زیب شبستاں ہوا چاہتا ہے
- کب ہے منظور کہ یوں جنس دل زار بکے
- دیر و کعبہ کو رہ گزر سمجھے
- مری خاطر میں ساقی کب ترا پیمانہ آتا ہے