غزل

ردیف الف

  1. ہزار وعدے کیے ہیں تم نے کبھی کسی کو وفا نہ کرنا
  2. چاک جگر و دل کا جب شکوہ بجا ہوتا
  3. بھول کر بھی ادھر نہیں آتا
  4. جس قدر ضبط کیا اور بھی رونا آیا
  5. دل محبت مکان ہے گویا
  6. یہ کیا لطف شور فغاں رہ گیا
  7. گرہ لب پہ جو مدعا ہو گیا
  8. خیال گزرے کہاں کہاں کا ارادہ ان کو ہو گر یہیں کا
  9. انسان ہوس پیشہ سے کیا ہو نہیں سکتا
  10. لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کا

ردیف ب

  1. واعظ ملے گی خلد میں کب اس قدر شراب

ردیف پ

  1. کچھ مجھے کہہ کے نہ کہوائیے آپ

ردیف ر

  1. نالاں نہیں کچھ ترے ستم پر

ردیف ز

  1. جی ہیچ جان ہیچ نہ دل نے جگر عزیز

ردیف س

  1. میں ہوا زینت مکان قفس

ردیف ض

  1. ملی نہ فرصت جہاں ہو غش سے اٹھی جو کچھ بھی نقاب عارض

ردیف م

  1. یوں عیاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہم

ردیف ن

  1. دل جہاں سے اٹھائے بیٹھے ہیں
  2. دل پہ آفت آئی اب اک آن میں
  3. آں سے ظالم کا امتحاں اور میں

ردیف ھ

  1. دل وہ شے ہے کہ جو دیکھے تو کھچے یار کے ساتھ
  2. اچھی نبھی بتان ستم آشنا کے ساتھ

ردیف ی

  1. انتہا صبر آزمائی کی
  2. مجھ پر ایسی جفا کی کثرت کی
  3. جو بھر لیں ایک چٹکی صاحب تاثیر مٹی کی
  4. اب تو لب سے نہ جائے گا آگے
  5. مضطرب ہوں اب یہ جی کی بات ہے
  6. ہاتھ میں لے کے نہ خنجر بیٹھیے
  7. اٹھے آج ان سے فیصلہ کر کے
  8. رکھو وہ شیوہ نہ مد نظر نظر میں رہے
  9. وہ زیب شبستاں ہوا چاہتا ہے
  10. کب ہے منظور کہ یوں جنس دل زار بکے
  11. دیر و کعبہ کو رہ گزر سمجھے
  12. مری خاطر میں ساقی کب ترا پیمانہ آتا ہے