غزل
ردیف الف
- جب ذرا نغموں سے بلبل گل فشاں ہو جائے گا
- جو داغ ہے عشق دل نشیں کا جو دل نشیں ہیں دل حزیں کا
- ہو گیا ابرو کی سفاکی سے شہرا یار کا
ردیف ر
ردیف ن
ردیف ی
- ہوئی ہے ہم میں اور اس گل میں کیا کیا مار پھولوں کی
- شب غم میں چھائی گھٹا کالی کالی
- جو عضو باطن خدا بناتا تو ہم دل بے قرار ہوتے
- بڑے نازوں سے دل میں جلوۂ جانانہ آتا ہے
- جب آنکھ بند ہوگی دیدار دیکھ لیں گے
- غنچے چٹک گئے چمن روزگار کے
- ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے (I)
- ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے (II)
- پڑ گئی آپ پر نظر ہی تو ہے
- منکر ہوتے ہیں ہنر والے