غزل

ردیف الف

  1. جب ذرا نغموں سے بلبل گل فشاں ہو جائے گا
  2. جو داغ ہے عشق دل نشیں کا جو دل نشیں ہیں دل حزیں کا
  3. ہو گیا ابرو کی سفاکی سے شہرا یار کا

ردیف ر

  1. گردن شیشہ جھکا دے مرے پیمانے پر

ردیف ن

  1. جو ہے عرش پر وہی فرش پر کوئی خاص اس کا مکاں نہیں
  2. لا کے دنیا میں ہمیں زہر فنا دیتے ہیں

ردیف ی

  1. ہوئی ہے ہم میں اور اس گل میں کیا کیا مار پھولوں کی
  2. شب غم میں چھائی گھٹا کالی کالی
  3. جو عضو باطن خدا بناتا تو ہم دل بے قرار ہوتے
  4. بڑے نازوں سے دل میں جلوۂ جانانہ آتا ہے
  5. جب آنکھ بند ہوگی دیدار دیکھ لیں گے
  6. غنچے چٹک گئے چمن روزگار کے
  7. ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے (I)
  8. ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے (II)
  9. پڑ گئی آپ پر نظر ہی تو ہے
  10. منکر ہوتے ہیں ہنر والے