غزل
ردیف الف
- یہ مشت خاک اپنے کو جہاں چاہے تہاں لے جا
- پانچ دن کو جو یہاں پر آ گیا
- بندہ پرور جو نہ پچھتائیے گا
- اے دل اب عشق کی لے گوئی اور چوگان میں آ
- فاسق جو اگر عاشق دیوانہ ہوا تو کیا
- کیا فروغ بزم اس مہ رو کا شب صد رنگ تھا
- پھیر روز فراق یار آیا
ردیف ب
ردیف د
ردیف ڈ
ردیف ر
ردیف ڑ
ردیف ز
ردیف س
ردیف ظ
ردیف ک
- عاشق سوختہ دل خط صنم دونوں ایک
- ماتم رنج و الم غم ہیں بہم چاروں ایک
- کفر عشق آیا بدل مجھ مومن دیں دار تک