غزل

ردیف الف

  1. وار اور پھر وار کس کا آپ کی تلوار کا
  2. اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرا
  3. رنگ دیکھا تری طبیعت کا
  4. مچلتی ہے مرے سینے میں تیری آرزو کیا کیا

ردیف ر

  1. دل نہیں ملنے کا پھر میرا ستم گر ٹوٹ کر

ردیف ن

  1. غبار خاطر ناشاد ہوں میں

ردیف و

  1. تعلق مدتوں کا ترک اس سے ہو تو کیونکر ہو

ردیف ی

  1. ہو ترقی پر مرا درد جدائی اور بھی
  2. کسی صورت عدو کی ترک الفت ہو نہیں سکتی