غزل

ردیف الف

  1. میرا دل ناشاد جو ناشاد رہے گا
  2. کوئی بھی ہم سفر نہیں ہوتا

ردیف ر

  1. آنکھوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں عیاں ہو کر

ردیف ن

  1. ترا جلوہ شام و سحر دیکھتے ہیں

ردیف و

  1. کچھ تو وفور شوق میں باعث امتیاز ہو

ردیف ی

  1. جو کچھ بھی ہے نظر میں سو وہم نمود ہے
  2. منہ بولا بول جگت کا ہے جو من میں رہے سو اپنا ہے
  3. اک خلش سی ہے مجھے تقدیر سے
  4. وصل کے لمحے کہانی ہو گئے
  5. وہ بہکی نگاہیں کیا کہیے وہ مہکی جوانی کیا کہیے