غزل
ردیف الف
- خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا
- ضبط اپنا شعار تھا نہ رہا
- اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیا
- مآل سوز غم ہائے نہانی دیکھتے جاؤ
- بجلیاں ٹوٹ پڑیں جب وہ مقابل سے اٹھا
- کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا
- کیا چھپاتے کسی سے حال اپنا
- سنگ در دیکھ کے سر یاد آیا
- بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپنا
- دل کی کایا غم نے وہ پلٹی کہ تجھ سا بن گیا
- تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گا
- شوق سے ناکامی کی بدولت کوچۂ دل ہی چھوٹ گیا
- وہ جی گیا جو عشق میں جی سے گزر گیا
- محتاج اجل کیوں ہے خود اپنی قضا ہو جا
- خوشی سے رنج کا بدلا یہاں نہیں ملتا
- مجھ کو مرے نصیب نے روز ازل سے کیا دیا
- یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتا
- زیست کا حاصل بنایا دل جو گویا کچھ نہ تھا
- جن خاک کے ذروں پر وہ سایۂ محمل تھا
- وہ پوچھتے ہیں ہجر میں ہے اضطراب کیا
- دنیائے حسن و عشق میں کس کا ظہور تھا
- نام بدنام ہے ناحق شب تنہائی کا
- لے اعتبار وعدۂ فردا نہیں رہا
- جذب دل جب بروئے کار آیا
- بے اجل کام نہ اپنا کسی عنواں نکلا
- حاصل علم بشر جہل کا عرفاں ہونا
- جلوۂ عشق حقیقت تھی حسن مجاز بہانہ تھا
- نہیں منظور تپ ہجر کا رسوا ہونا
- یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرا
- مزاج دہر میں ان کا اشارہ پائے جا
- وائے نادانی یہ حسرت تھی کہ ہوتا در کھلا
- واہمہ کی یہ مشق پیہم کیا
- کچھ کم تو ہوا رنج فراوان تمنا
- تیرا نگاہ شوق کوئی راز داں نہ تھا
- جستجوئے نشاط مبہم کیا
- وہ کہتے ہیں کہ ہے ٹوٹے ہوئے دل پر کرم میرا
- یوں نظم جہاں درہم و برہم نہ ہوا تھا
ردیف ت
ردیف ٹ
ردیف د
ردیف ر
- عشق عشق ہو شاید حسن میں فنا ہو کر
- جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دور
- کوچۂ جاناں میں جا نکلے جو غلماں بھول کر
- ہر تبسم کو چمن میں گریہ ساماں دیکھ کر
ردیف ک
ردیف گ
ردیف م
- نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
- مجھ پہ رکھتے ہیں حشر میں الزام
- دل اور دل میں یاد کسی خوش خرام کی
- وادئ شوق میں وارفتۂ رفتار ہیں ہم
ردیف ن
- زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں
- ہر سانس کے ساتھ جا رہا ہوں
- لطف و کرم کے پتلے ہو اب قہر و ستم کا نام نہیں
- آپ سے شرح آرزو تو کریں
- دل کی ہر لرزش مضطر پہ نظر رکھتے ہیں
- میرے لب پر کوئی دعا ہی نہیں
- زباں مدعا آشنا چاہتا ہوں
- خود مسیحا خود ہی قاتل ہیں تو وہ بھی کیا کریں
- مر کر ترے خیال کو ٹالے ہوئے تو ہیں
ردیف و
ردیف ھ
ردیف ی
- جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالی
- آہ اب تک تو بے اثر نہ ہوئی
- اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ
- ہر گھڑی انقلاب میں گزری
- بے ذوق نظر بزم تماشا نہ رہے گی
- ڈرو نہ تم کہ نہ سن لے کہیں خدا میری
- دیر میں یا حرم میں گزرے گی
- قسم نہ کھاؤ تغافل سے باز آنے کی
- تاکید ہے کہ دیدۂ دل وا کرے کوئی
- مر کر مریض غم کی وہ حالت نہیں رہی
- شباب ہوش کہ فی الجملہ یادگار ہوئی
- دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے
- ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے
- اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئے
- ہم موت بھی آئے تو مسرور نہیں ہوتے
- جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہے
- مر کے ٹوٹا ہے کہیں سلسلۂ قید حیات
- رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائے
- ادا سے آڑ میں خنجر کے منہ چھپائے ہوئے
- اب انہیں اپنی اداؤں سے حجاب آتا ہے
- اے موت تجھ پہ عمر ابد کا مدار ہے
- جب پرسش حال وہ فرماتے ہیں جانیے کیا ہو جاتا ہے
- کچھ بس ہی نہ تھا ورنہ یہ الزام نہ لیتے
- آہ سے یا آہ کی تاثیر سے
- اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہے
- کی وفا یار سے ایک ایک جفا کے بدلے
- بیداد کے خوگر تھے فریاد تو کیا کرتے
- قصۂ زیست مختصر کرتے
- قطرہ دریائے آشنائی ہے
- وہ مشق خوئے تغافل پھر ایک بار رہے
- کیوں نہ نیرنگ جنوں پر کوئی قرباں ہو جائے
- سوال دید پہ تیوری چڑھائی جاتی ہے
- ستم ایجاد رہوگے ستم ایجاد رہے