غزل

ردیف الف

  1. کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا
  2. آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا
  3. نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا
  4. وعدہ اس ماہرو کے آنے کا
  5. دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیا
  6. دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا
  7. دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا

ردیف ر

  1. نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر
  2. غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور

ردیف ل

  1. حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل

ردیف م

  1. آؤ بے پردہ تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسم
  2. گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم

ردیف ن

  1. کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں
  2. محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں
  3. ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں
  4. تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں
  5. وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں
  6. یارو کوئے یار کی باتیں کریں
  7. کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں
  8. لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں
  9. مری شام غم کو وہ بہلا رہے ہیں
  10. یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیں
  11. عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں
  12. بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا
  13. ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں
  14. دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیں
  15. اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں

ردیف و

  1. میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!
  2. یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو

ردیف ی

  1. یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی
  2. اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئی
  3. اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی
  4. جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی
  5. غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی
  6. نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہی
  7. نہ ساز و مطرب نہ جام و ساقی نہ وہ بہار چمن ہے باقی
  8. اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے
  9. کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے
  10. وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے
  11. کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے
  12. نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے
  13. اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے
  14. ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے
  15. آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے
  16. مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے
  17. نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے
  18. خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے
  19. مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے
  20. بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے
  21. سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے
  22. زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئے
  23. ہر ایک جلوۂ رنگیں مری نگاہ میں ہے
  24. سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے
  25. بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلے