غزل
ردیف الف
- کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا
- آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا
- نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا
- وعدہ اس ماہرو کے آنے کا
- دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیا
- دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا
- دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا
ردیف ر
ردیف ل
ردیف م
ردیف ن
- کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں
- محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں
- ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں
- تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں
- وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں
- یارو کوئے یار کی باتیں کریں
- کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں
- لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں
- مری شام غم کو وہ بہلا رہے ہیں
- یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیں
- عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں
- بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا
- ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں
- دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیں
- اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں
ردیف و
ردیف ی
- یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی
- اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئی
- اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی
- جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی
- غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی
- نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہی
- نہ ساز و مطرب نہ جام و ساقی نہ وہ بہار چمن ہے باقی
- اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے
- کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے
- وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے
- کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے
- نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے
- اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے
- ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے
- آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے
- مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے
- نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے
- خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے
- مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے
- بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے
- سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے
- زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئے
- ہر ایک جلوۂ رنگیں مری نگاہ میں ہے
- سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے
- بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلے