غزل

ردیف الف

  1. یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کا
  2. اشک آنکھوں کے اندر نہ رہا ہے نہ رہے گا
  3. محزوں نہ ہو حضورؔ اب آتا ہے یار اپنا
  4. اس شوخ سے کیا کیجئے اظہار تمنا
  5. شجر باغ جہاں کا تھا جہاں تک سب ثمر لایا
  6. بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہوا

ردیف ج

  1. آنکھوں کا خدا ہی ہے یہ آنسو کی ہے گر موج

ردیف د

  1. ہر شجر کے تئیں ہوتا ہے ثمر سے پیوند

ردیف ف

  1. کیا رفو کرنے لگا ہے جا بھی ناداں یک طرف

ردیف ک

  1. گلعذار اور بھی یوں رکھتے ہیں رنگ اور نمک

ردیف ی

  1. عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئی
  2. جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگی
  3. آبرو الفت میں اگر چاہئے
  4. جو یوں آپ بیرون در جائیں گے
  5. ٹک دیکھیو یہ ابروئے خم دار وہی ہے
  6. آئنہ ہے یہ جہاں اس میں جمال اپنا ہے
  7. جہاں میں کہاں باہم الفت رہی ہے
  8. دل بہ از کعبہ ہے یاراں جبہ سائی چاہیے
  9. یوں تو دل ہر کدام رکھتا ہے
  10. مجھ سے مڑنے کی نیں کسی رو سے
  11. غیر آئے پیچھے پا گئے مجرے کا بار پہلے