غزل
ردیف الف
- یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کا
- اشک آنکھوں کے اندر نہ رہا ہے نہ رہے گا
- محزوں نہ ہو حضورؔ اب آتا ہے یار اپنا
- اس شوخ سے کیا کیجئے اظہار تمنا
- شجر باغ جہاں کا تھا جہاں تک سب ثمر لایا
- بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہوا
ردیف ج
ردیف د
ردیف ف
ردیف ک
ردیف ی
- عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئی
- جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگی
- آبرو الفت میں اگر چاہئے
- جو یوں آپ بیرون در جائیں گے
- ٹک دیکھیو یہ ابروئے خم دار وہی ہے
- آئنہ ہے یہ جہاں اس میں جمال اپنا ہے
- جہاں میں کہاں باہم الفت رہی ہے
- دل بہ از کعبہ ہے یاراں جبہ سائی چاہیے
- یوں تو دل ہر کدام رکھتا ہے
- مجھ سے مڑنے کی نیں کسی رو سے
- غیر آئے پیچھے پا گئے مجرے کا بار پہلے