غزل
ردیف الف
- رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلا
- خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا
- جب تک یہ محبت میں بد نام نہیں ہوتا
- عاشق تو ملیں گے تجھے انساں نہ ملے گا
- اول تو ترے کوچے میں آنا نہیں ملتا
- آساں نہیں ہے تنہا در اس کا باز کرنا
- جب کہ بے پردہ تو ہوا ہوگا
- آنا ہے یوں محال تو اک شب بہ خواب آ
- رخ زلف میں بے نقاب دیکھا
- نہ پوچھ عشق کے صدمے اٹھائے ہیں کیا کیا
- آہ ہم راز کون ہے اپنا
- دل چرانا یہ کام ہے تیرا
- ان آنکھوں سے آب کچھ نہ نکلا
- تجھ سے گر وہ دلا نہیں ملتا
- بچا گر ناز سے تو اس کو پھر انداز سے مارا
- ہر روز ہمیں گھر سے صحرا کو نکل جانا
- جو دم حقے کا دوں بولے کہ ”میں حقا نہیں پیتا”
- اک حرف کن میں جس نے کون و مکاں بنایا
- ٹکڑا جہاں گرا جگر چاک چاک کا
- بلبلو باغباں کو کیوں چھیڑا
- کھڑا نہ سن کے صدا میری ایک یار رہا
- کھا لیتے ہیں غصے میں تلوار کٹاری کیا
- کل تو کھیلے تھا وہ گلی ڈنڈا
- غم ترا دل میں مرے پھر آگ سلگانے لگا
- گریہ دل کو نہ سوے چشم بہاؤ
- باغ تھا اس میں آشیاں بھی تھا
- شب ہجراں تھی میں تھا اور تنہائی کا عالم تھا
- گر اور بھی مری تربت پہ یار ٹھہرے گا
- دور سے مجھ کو نہ منہ اپنا دکھاؤ جاؤ
- مشتاق ہی دل برسوں اس غنچہ دہن کا تھا
- سر شام اس نے منہ سے جو رخ نقاب الٹا
- رو کے ان آنکھوں نے دریا کر دیا
- دیکھ کر اک جلوے کو تیرے گر ہی پڑا بے خود ہو موسیٰ
- کی آہ ہم نے لیکن اس نے ادھر نہ دیکھا
- تم بانکپن یہ اپنا دکھاتے ہو ہم کو کیا
- اے غم زدہ ضبط کر کے چلنا
- وہ آرزو نہ رہی اور وہ مدعا نہ رہا
- پھر یہ کیسا ادھیڑ بن سا لگا
- پریشاں کیوں نہ ہو جاوے نظارا
- ہر چند امردوں میں ہے اک راہ کا مزا
- اس کے کوچے کی طرف تھا شب جو دنگا آگ کا
- کل پتنگ اس نے جو بازار سے منگوا بھیجا
- جاتے جاتے راہ میں اس نے منہ سے اٹھایا جوں ہی پردا
- تم بھی آؤگے مرے گھر جو صنم کیا ہوگا
- اس مرگ کو کب نہیں میں سمجھا
- نخل لالے جا جب زمیں سے اٹھا
- پس قافلہ جو غبار تھا کوئی اس میں ناقہ سوار تھا
- اس کے خط میں جو لکھا غیر کا میں نام الٹا
- جُو پھرا کہ اس نے منہ کو بہ قفا نقاب الٹا
- یہ دم اس کہ وقت رخصت بہ صد اضطراب الٹا
ردیف ب
- اب مجھ کو گلے لگاؤ صاحب
- وہ چہچہے نہ وہ تری آہنگ عندلیب
- دوکان مے فروش پہ گر آئے محتسب
- لیکھے کی یاں بہی نہ زر و مال کی کتاب
ردیف پ
- دریاے عاشقی میں جو تھے گھاٹ گھاٹ سانپ
- رکھیں ہیں جی میں مگر مجھ سے بد گمانی آپ
- کام میں اپنے ظہور حق ہے آپ
- جب سے صانع نے بنایا ہے جہاں کا بہروپ
ردیف ت
- آہ دیکھی تھی میں جس گھر میں پری کی صورت
- یا تھی ہوس وصال دن رات
- جب نبی صاحب میں کوہ و دشت سے آئی بسنت
- شعر دولت ہے کہاں کی دولت
- ایسا بھی کوئی کرے ہے خلل ملک دیں میں بت
ردیف ٹ
ردیف ث
ردیف ج
ردیف چ
ردیف ح
ردیف خ
ردیف ر
- اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کر
- پہلو میں رہ گیا یوں یہ دل تڑپ تڑپ کر
- دل خوش نہ ہوا زلف پریشاں سے نکل کر
- حال دل بے قرار ہے اور
- پڑھ نہ اے ہم نشیں وصال کا شعر
- چھریاں چلیں شب دل و جگر پر
- بنایا ایک کافر کے تئیں اس دم میں دو کافر
- وحشت ہے میرے دل کو تو تدبیر وصل کر
- موج نکہت کی صبا دیکھ سواری تیار
ردیف س
ردیف ط
ردیف ع
ردیف ف
ردیف ق
ردیف ک
ردیف گ
ردیف ل
- آج خوں ہو کے ٹپک پڑنے کے نزدیک ہے دل
- ترسا نہ مجھ کو کھینچ کے تلوار مار ڈال
- مسلخ عشق میں کھنچتی ہے خوش اقبال کی کھال
- فہمیدہ ہے جو تجھ کو تو فہمید سے نکل
- او میاں بانکے ہے کہاں کی چال
ردیف م
- وہ چاندنی رات اور وہ ملاقات کا عالم
- یوں چلتے ہیں لوگ راہ ظالم
- ایسے ڈرے ہیں کس کی نگاہ غضب سے ہم
- کیا کریں جا کے گلستاں میں ہم
- جب تک کہ تری گالیاں کھانے کے نہیں ہم
- سر اپنے کو تجھ پر فدا کر چکے ہم
- کب لگ سکے جفا کو اس کی وفائے عالم
- کب خوں میں بھرا دامن قاتل نہیں معلوم
- کس راہ گیا لیلیٰ کا محمل نہیں معلوم
- اس گلی میں جو ہم کو لائے قدم
- ہر چند کہ وہ جواں نہیں ہم
- یادگار گزشتگاں ہیں ہم
- نے شہریوں میں ہیں نہ بیابانیوں میں ہم
- سیراب آب جو سے قدح اور قدح سے ہم
ردیف ن
- آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوں
- کبھی تو بیٹھوں ہوں جا اور کبھی اٹھ آتا ہوں
- اے شب ہجر کہیں تیری سحر ہے کہ نہیں
- یار ہیں چیں بر جبیں سب مہرباں کوئی نہیں
- ہم تو اس کوچے میں گھبرا کے چلے آتے ہیں
- دلی ہوئی ہے ویراں سونے کھنڈر پڑے ہیں
- آتا ہے یہی جی میں فریاد کروں روؤں
- گھر میں باشندے تو اک ناز میں مر جاتے ہیں
- خواریاں بدنامیاں رسوائیاں
- جیتا رہوں کہ ہجر میں مر جاؤں کیا کروں
- ابھی اپنے مرتبۂ حسن سے میاں با خبر تو ہوا نہیں
- ہم دل کو لیے بر سر بازار کھڑے ہیں
- منہ چھپاؤ نہ تم نقاب میں جان
- بعد مردن کی بھی تدبیر کیے جاتا ہوں
- مذہب کی میرے یار اگر جستجو کریں
- لگتے ہیں نت جو خوباں شرمانے باؤلے ہیں
- پردہ اٹھا کے مہر کو رخ کی جھلک دکھا کہ یوں
- اس نازنیں کی باتیں کیا پیاری پیاریاں ہیں
- عاشق کہیں ہیں جن کو وہ بے ننگ لوگ ہیں
- تجھ بن تو کبھی گل کے تئیں بو نہ کروں میں
- مخلوق ہوں یا خالق مخلوق نما ہوں
- اپنا رفیق و آشنا غیر خدا کوئی نہیں
- کیجیے ظلم سزا وار جفا ہم ہی ہیں
- جو پری بھی روبرو ہو تو پری کو میں نہ دیکھوں
- آتش غم میں بس کہ جلتے ہیں
- سینہ ہے پرزے پرزے جائے رفو نہیں یاں
- سخن میں کامرانی کر رہا ہوں
- میں پہروں گھر میں پڑا دل سے بات کرتا ہوں
- غیر کے گھر تو نہ رہ رات کو مہمان کہیں
- بھری آتی ہیں ہر گھڑی آنکھیں
- یہ دل وہ شیشہ ہے جھمکے ہے وہ پری جس میں
- وہی راتیں آئیں وہی زاریاں
- دم غنیمت ہے کہ وقت خوش دلی ملتا نہیں
- محبت نے کیا کیا نہ آنیں نکالیں
- کیا میں جاتا ہوں صنم چھٹ ترے در اور کہیں
- زیر نقاب آب گوں ہائے رے ان کی جالیاں
- طور پر اپنے کسی دن بھی خور و خواب ہے یاں
- کبھی وفائیں کبھی بے وفائیاں دیکھیں
- گر ہو طمنچہ بند وہ رشک فرنگیاں
- تمہاری اور مری کج ادائیاں ہی رہیں
- ادھر سے جھانکتے ہیں گہہ ادھر سے دیکھ لیتے ہیں
- اس گوشۂ عزلت میں تنہائی ہے اور میں ہوں
- خوش طالعی میں شمس و قمر دونوں ایک ہیں
- تم گرم ملے ہم سے نہ سرما کے دنوں میں
- بزم سرود خوباں میں گو مردنگیں شاہین بجیں
- نے زخم خوں چکاں ہوں نہ حلق بریدہ ہوں
- جوں ہی زنجیر کے پاس آئے پاؤں
- جلوہ گر اس کا سراپا ہے بدن آئنے میں
- یک نالۂ عاشقانہ ہے یاں
- یہ جو اپنے ہاتھ میں دامن سنبھالے جاتے ہیں
ردیف و
- گرچہ اے دل عاشق شیدا ہے تو
- وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو
- آتا ہے کس انداز سے ٹک ناز تو دیکھو
- آج پلکوں کو جاتے ہیں آنسو
- بات کو میری الگ ہو کے نہ شرماؤ سنو
- شعر کیا جس میں نوک جھوک نہ ہو
- خریدار اپنا ہم کو جانتے ہو
- نظر کیا آئے ذات حق کسی کو
- از بس بھلا لگے ہے تو میرے یار مجھ کو
- یارب مری اس بت سے ملاقات کہیں ہو
- کیا دخل کسی سے مرض عشق شفا ہو
- ظلمات شب ہجر کی آفات ہے اور تو
- مکھ پھاٹ منہ پہ کھائیں گے تلوار ہو سو ہو
- ایک تو بیٹھے ہو دل کو مرے کھو اور سنو
- سدھاری قوت دل تاب اور طاقت سے کہہ دیجو
- در تلک جانے کی ہے اس کے مناہی ہم کو
- نہ پیارے اوپر اوپر مال ہر صبح مسا چکھو
ردیف ہ
- تھا جو شعر راست سرو بوستان ریختہ
- کیا کھینچے ہے خود کو دور اللہ
- چکھی نہ جس نے کبھی لذت سنان نگاہ
- ہر چند بہار و باغ ہے یہ
ردیف ھ
ردیف ی
- اے عشق تیری اب کے وہ تاثیر کیا ہوئی
- کہہ گیا کچھ تو زیر لب کوئی
- دیکھ اس کو اک آہ ہم نے کر لی
- یہ آنکھیں ہیں تو سر کٹا کر رہیں گی
- بحث اس کی میری وقت ملاقات بڑھ گئی
- زلفوں کا بکھرنا اک تو بلا، عارض کی جھلک پھر ویسی ہی
- اس رشک مہ کی یاد دلاتی ہے چاندنی
- نہیں کرتی اثر فریاد میری
- بے لاگ ہیں ہم ہم کو رکاوٹ نہیں آتی
- مدت سے ہوں میں سر خوش صہبائے شاعری
- کیا چمکے اب فقط مری نالے کی شاعری
- چلے لے کے سر پر گناہوں کی گٹھری
- ہوں شیخ مصحفی کا میں حیران شاعری
- اس نے کر وسمہ جو فندق پہ جمائی مہندی
- شب ہجر صحرائے ظلمات نکلی
- جی سے مجھے چاہ ہے کسی کی
- ترے منہ چھپاتے ہی پھر مجھے خبر اپنی کچھ نہ ذری رہی
- برق رخسار یار پھر چمکی
- نسیم صبح چمن سے ادھر نہیں آتی
- میری سی تو نے گل سے نہ گر اے صبا کہی
- کہیں مغز اس کے میں صبح دم تری بوئے زلف رسا گئی
- دل کے نگر میں چار طرف جب غم کی دہائی بیٹھ گئی
- در تلک آ کے ٹک آواز سنا جاؤ جی
- آئے ہو تو یہ حجاب کیا ہے
- لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہے
- عقل گئی ہے سب کی کھوئی کیا یہ خلق دوانی ہے
- جمنا میں کل نہا کر جب اس نے بال باندھے
- غم دل کا بیان چھوڑ گئے
- ترا شوق دیدار پیدا ہوا ہے
- اہل دل گر جہاں سے اٹھتا ہے
- اس عشق و جنوں میں نہ گریبان کا ڈر ہے
- دل کو یہ اضطرار کیسا ہے
- غزل کہنے کا کس کو ڈھب رہا ہے
- غصے کو جانے دیجے نہ تیوری چڑھائیے
- معشوقۂ گل نقاب میں ہے
- کب صبا سوئے اسیران قفس آتی ہے
- بیٹھے بیٹھے جو ہم اے یار ہنسے اور روئے
- اول تو یہ دھج اور یہ رفتار غضب ہے
- تو دیکھے تو اک نظر بہت ہے
- نہ وہ وعدۂ سر راہ ہے نہ وہ دوستی نہ نباہ ہے
- ازبسکہ جی ہے تجھ بن بیزار زندگی سے
- سدا فکر روزی ہے تا زندگی ہے
- دل سینے میں بیتاب ہے دل دار کدھر ہے
- کدھر جائیے اور کہاں بیٹھیے
- ہے ماہ کہ آفتاب کیا ہے
- زلف اگر دل کو پھنسا رکھتی ہے
- جب گھر سے وہ بعد ماہ نکلے
- کیوں کہ کہیے کہ ادا بندی ہے
- کبھو تک کے در کو کھڑے رہے کبھو آہ بھر کے چلے گئے
- کپڑے بدل کے آئے تھے آگ مجھے لگا گئے
- عمر پس ماندہ کچھ دلیل سی ہے
- میرؔ کیا چیز ہے سوداؔ کیا ہے
- کون اس باغ سے اے باد صبا جاتا ہے
- سو بار تم تو سامنے آ کر چلے گئے
- سوتے ہیں ہم زمیں پر کیا خاک زندگی ہے
- کبریائی کی ادا تجھ میں ہے
- پانو میں قیس کے زنجیر بھلی لگتی ہے
- جلتا ہے جگر تو چشم نم ہے
- اس بت کو نہیں ہے ڈر خدا سے
- خدا کی قسم پھر تو کیا خیر ہووے
- سراسر خجلت و شرمندگی ہے
- تصور تیری صورت کا مجھے ہر شب ستاتا ہے
- وہ در تلک آوے نہ کبھی بات کی ٹھہرے
- گر ابر گھرا ہوا کھڑا ہے
- ہمیں نت اسیر بلا چاہتا ہے
- زخم ہے اور نمک فشانی ہے
- بند بھی آنکھوں کو ذری کیجیے
- نصیبوں سے کوئی گر مل گیا ہے
- لینے لگے جو چٹکی یک بار بیٹھے بیٹھے
- نے بت ہے نہ سجدہ ہے نے بادہ نہ مستی ہے
- دلبر کی تمنائے بر دوش میں مر جائے
- پٹرے دھرے ہیں سر پر دریا کے پاٹ والے
- رات کے رہنے کا نہ ڈر کیجیے
- بس ہم ہیں شب اور کراہنا ہے
- شب ہم کو جو اس کی دھن رہی ہے
- یارب آباد ہوویں گھر سب کے
- طرح اولے کی جو خلقت میں ہم آبی ہوتے
- منہ میں جس کے تو شب وصل زباں دیتا ہے
- ہر چند کہ بات اپنی کب لطف سے خالی ہے
- دل میں مرغان چمن کے تو گماں اور ہی ہے
- نرمیٔ بالش پر ہم کو نہیں بھاتی ہے
- ناتوانی کے سبب یاں کس سے اٹھا جائے ہے